بارش کے بعد
ندا کو بارش کبھی پسند نہیں تھی۔
ہر بارش اسے کچھ یاد دلا دیتی تھی—
کچھ کھوئے ہوئے دن،
کچھ ادھورے خواب۔
اس دن بھی بارش اچانک آ گئی تھی۔
سڑکیں بھیگ گئیں،
لوگ دوڑنے لگے،
اور ندا بس اسٹاپ پر کھڑی
خاموشی سے آسمان کو دیکھتی رہی۔
اسی بس اسٹاپ پر
کچھ سال پہلے
اس نے ایک فیصلہ کیا تھا—
ایسا فیصلہ جس نے اس کی زندگی کی سمت بدل دی تھی۔
وہ ایک چھوٹے شہر سے
بڑے خواب لے کر نکلی تھی،
مگر شہر نے خوابوں سے زیادہ
اس کی ہمت آزمائی۔
ناکامی،
اکیلا پن،
اور مسلسل کوششوں کی تھکن—
سب اس کے حصے میں آیا۔
اس دن بھی بارش میں
اس کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
اچانک ایک بوڑھی عورت اس کے پاس آ کر بیٹھی۔
ہاتھ میں ایک چھتری تھی،
اور چہرے پر عجیب سا سکون۔
عورت نے کہا:
“بیٹی، بارش کے بعد سڑکیں صاف ہو جاتی ہیں۔
دل بھی ہو جاتے ہیں۔”
ندا نے چونک کر دیکھا،
مگر عورت مسکرا رہی تھی۔
بس آ گئی۔
عورت بیٹھ گئی،
اور ندا کھڑی رہ گئی۔
بارش آہستہ آہستہ تھم گئی۔
بادل چھٹنے لگے۔
سڑک پر پانی میں
آسمان کا عکس بن گیا۔
ندا نے گہری سانس لی۔
اسے لگا جیسے
کچھ بوجھ ہلکا ہو گیا ہو۔
اگلے دن اس نے
وہی کام دوبارہ شروع کیا
جو وہ چھوڑ چکی تھی—
چھوٹے قدم،
بغیر جلدی کے۔
دن بدلنے لگے۔
نتائج فوراً نہیں آئے،
مگر ندا بدلی ضرور۔
کچھ مہینوں بعد
اسی بس اسٹاپ پر
وہ کھڑی تھی—
بارش نہیں تھی،
مگر ہوا میں تازگی تھی۔
ندا مسکرائی۔
اس بار بارش کے بعد نہیں،
بلکہ بارش کے بغیر۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- ہر مشکل ایک دھلائی ہوتی ہے
- دکھ وقتی ہوتے ہیں، سبق مستقل
- تبدیلی آہستہ آتی ہے، مگر گہری ہوتی ہے
- بارش کے بعد زمین ہی نہیں، انسان بھی نیا ہو جاتا ہے
تو گھبرائیں نہیں—
بادل چھٹتے ضرور ہیں،
اور اس کے بعد
سانس لینا آسان ہو جاتا ہے۔
— اختتام —