← تمام اردو کہانیاں

کاغذی کشتی

A small paper boat floating in a rain puddle on a quiet street, soft light, nostalgic mood

حارث کو بارش ہمیشہ بچپن کی یاد دلاتی تھی۔

وہی گلی،
وہی ننگے پاؤں دوڑنا،
اور کاغذ کی بنی چھوٹی چھوٹی کشتیاں۔

اس دن بھی بارش ہو رہی تھی،
مگر حارث اب بچہ نہیں رہا تھا۔
دفتر سے واپسی،
ذہن میں بوجھ،
اور دل میں تھکن۔

وہ اپنے پرانے محلے سے گزر رہا تھا
جب اچانک اس کی نظر
ایک بچے پر پڑی۔

بچہ پانی میں
کاغذی کشتی چھوڑ رہا تھا۔

کشتی تھوڑی آگے جاتی،
پھر کسی پتھر سے ٹکرا کر رک جاتی۔
بچہ ہنستا،
اور نئی کشتی بنا لیتا۔

حارث رک گیا۔

اسے یاد آیا
کہ وہ بھی کبھی ایسے ہی
ناکام کشتیوں پر نہیں روتا تھا،
بس نئی بنا لیتا تھا۔

زندگی نے اسے بدل دیا تھا۔
اب ایک ناکامی
دنوں کا بوجھ بن جاتی تھی۔

وہ بچہ اس کی طرف دیکھ کر بولا:
“انکل، یہ کشتی ڈوب گئی،
مگر مزہ آیا!”

حارث مسکرا دیا—
ایک لمبے عرصے بعد۔

وہ گھر پہنچا تو
الماری سے پرانی کاپیاں نکالیں۔
ایک صفحہ پھاڑا،
اور کاغذی کشتی بنانے لگا۔

کشتی ٹیڑھی بنی،
مگر بنی ضرور۔

اگلے دن اس نے
اپنے مسئلوں کو بھی
کاغذی کشتیوں کی طرح دیکھا—
ٹوٹیں تو دوبارہ بناؤ،
رکیں تو نیا راستہ دو۔

دن آہستہ آہستہ ہلکے ہونے لگے۔
ناکامی اب انجام نہیں،
صرف ایک موڑ لگنے لگی۔

ایک شام بارش میں
اس نے پھر ایک کشتی پانی میں چھوڑی۔
وہ زیادہ دور نہیں گئی،
مگر حارث ہنسا۔

وہ جان گیا تھا
کہ زندگی کا اصل مزہ
تیرنے میں نہیں،
بار بار بنانے میں ہے۔



معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:

اگر آپ کی کشتی بار بار رک رہی ہے،
تو مایوس نہ ہوں—
شاید وقت آ گیا ہے
ایک نئی کشتی بنانے کا۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →