← تمام اردو کہانیاں

سایہ اور روشنی

A person walking from shadow into sunlight on a quiet street, symbolic and hopeful atmosphere

سہیل کو ہمیشہ لگتا تھا کہ وہ زندگی میں پیچھے رہ گیا ہے۔

اس کے دوست آگے بڑھ چکے تھے—
کوئی بیرونِ ملک تھا،
کوئی بڑی کمپنی میں،
اور کوئی اپنے خوابوں کے قریب۔

اور سہیل؟
وہ ایک ہی نوکری،
ایک ہی راستے،
اور ایک ہی سوال میں پھنسا ہوا تھا۔

“میں کہاں غلط ہو گیا؟”

ہر صبح وہ آئینے میں خود کو دیکھتا،
چہرہ وہی تھا،
مگر آنکھوں میں روشنی کم ہو چکی تھی۔

دفتر میں وہ اپنا کام ایمانداری سے کرتا،
مگر دل شامل نہیں ہوتا تھا۔
شام کو واپسی پر
وہ اکثر ایک ویران گلی سے گزرتا—
جہاں سورج کی روشنی
آہستہ آہستہ
لمبے سائے بناتی تھی۔

اسی گلی میں
ایک بوڑھا موچی بیٹھتا تھا۔
کم بولتا،
مگر مسکراتا بہت تھا۔

ایک دن سہیل رک گیا۔
پوچھا:
“بابا، روز یہاں بیٹھتے ہو،
تھکتے نہیں؟”

بوڑھے نے مسکرا کر کہا:
“بیٹا، سائے میں بیٹھ کر کام کروں
یا روشنی میں—
کام تو کرنا ہی ہے۔
فرق صرف یہ ہے
کہ میں روشنی کا انتظار نہیں کرتا،
جہاں ہوں، وہیں روشنی بنا لیتا ہوں۔”

یہ بات سہیل کے ساتھ
گھر تک چلی آئی۔

اُس رات وہ سو نہ سکا۔
زندگی کے سارے بہانے
ایک ایک کر کے
اس کے سامنے کھڑے ہو گئے۔

نوکری کم ہے،
وسائل نہیں،
وقت گزر گیا ہے—
یہ سب سائے تھے،
جو اس نے خود بنائے تھے۔

اگلی صبح
وہ اسی گلی سے گزرا،
مگر آج اس نے
سورج کی طرف رخ کیا۔

اس نے ایک چھوٹا سا فیصلہ کیا—
بہت بڑا نہیں،
مگر سچا۔

وہ روز ایک گھنٹہ
اپنی صلاحیت پر کام کرنے لگا۔
کبھی سیکھتا،
کبھی لکھتا،
کبھی ناکام ہوتا،
مگر رکتا نہیں۔

مہینے گزرے۔
فرق فوراً نظر نہیں آیا،
مگر سہیل بدلنے لگا تھا۔

وہ اب خود کو
کم نہیں سمجھتا تھا۔
وہ جان گیا تھا
کہ سائے ختم نہیں ہوتے،
بس پیچھے رہ جاتے ہیں۔

ایک دن اسے
اپنے خواب کی نوکری کی کال آئی۔
وہ کامیاب ہو گیا تھا—
مگر سب سے بڑی کامیابی
نوکری نہیں تھی۔

وہ کامیابی یہ تھی
کہ سہیل نے
سائے سے نکلنے کا فیصلہ
خود کیا تھا۔

اُسی گلی سے گزرتے ہوئے
اس نے موچی کو دیکھا۔
مسکرا کر سلام کیا۔

بوڑھے نے کہا:
“آج چہرے پر روشنی ہے۔”

سہیل نے جواب دیا:
“بابا، میں نے
آخرکار سمت بدل لی۔”

بوڑھا ہنسا:
“میں جانتا تھا۔
جو اپنے اندر سورج جلا لے،
اسے اندھیرا روک نہیں سکتا۔”



معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:

اگر آپ خود کو سائے میں محسوس کر رہے ہیں،
تو گھبرائیں نہیں—
صرف رخ بدلیں۔
روشنی پہلے سے موجود ہے،
بس آپ کے قدم کی منتظر ہے۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →