نامکمل نقشہ
زاہد کو ہمیشہ نقشوں سے دلچسپی رہی تھی۔
بچپن میں وہ کتابوں میں بنی لکیروں کو دیکھ کر
سوچتا تھا کہ ہر راستہ
کسی نہ کسی جگہ ضرور لے جاتا ہوگا۔
مگر اب،
تیس سال کی عمر میں،
اسے لگتا تھا کہ اس کی اپنی زندگی کا
کوئی واضح نقشہ نہیں۔
نوکری تھی،
مگر دل نہیں تھا۔
لوگ تھے،
مگر باتیں ادھوری تھیں۔
اور خواب؟
وہ کسی دراز میں بند پڑے تھے۔
ایک دن وہ اپنے مرحوم والد کے کمرے میں
پرانی چیزیں سمیٹ رہا تھا
کہ اسے ایک بوسیدہ کاغذ ملا۔
وہ ایک نقشہ تھا—
آدھا پھٹا ہوا،
کئی جگہوں سے دھندلا،
اور کونے پر پنسل سے لکھا تھا:
“راستہ چلنے سے بنتا ہے۔”
زاہد مسکرایا۔
یہ جملہ اس کے والد کہا کرتے تھے۔
نقشے میں کوئی واضح منزل نہیں تھی۔
بس چند نشان،
کچھ موڑ،
اور بہت سی خالی جگہیں۔
عام طور پر زاہد ایسا نقشہ
واپس رکھ دیتا،
مگر اس دن اس نے
ایک فیصلہ کیا۔
وہ چھٹی لے کر
ایک چھوٹے سے سفر پر نکل پڑا—
بغیر مکمل منصوبے کے،
بغیر کسی یقین کے۔
راستے میں
کبھی بس چھوٹ گئی،
کبھی بارش آ گئی،
اور کبھی اس نے
غلط موڑ لے لیا۔
مگر ہر غلطی کے بعد
کوئی نیا منظر سامنے آتا—
کسی گاؤں کی چائے،
کسی اجنبی کی مدد،
یا کسی خاموش پہاڑ کی موجودگی۔
ایک رات وہ ایک ویران سڑک پر رکا۔
آسمان ستاروں سے بھرا ہوا تھا۔
زاہد نے نقشہ کھولا،
اور پہلی بار محسوس کیا
کہ خالی جگہیں
اصل میں آزادی ہیں۔
اگلے دن اس نے نقشے پر
اپنی لکیریں بنائیں—
جہاں وہ رکا،
جہاں وہ بدلا،
اور جہاں اس نے
خود کو تھوڑا سا پہچانا۔
جب وہ واپس لوٹا
تو وہی شہر تھا،
وہی نوکری—
مگر زاہد وہ نہیں رہا تھا۔
اب اس کے پاس
ایک مکمل نقشہ نہیں تھا،
مگر ایک یقین تھا:
کہ زندگی راستہ دکھاتی نہیں،
بلکہ راستہ مانگتی ہے۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- مکمل منصوبہ نہ ہونا ناکامی نہیں
- سفر شروع کیے بغیر راستہ نہیں بنتا
- غلط موڑ بھی سیکھنے کا حصہ ہوتے ہیں
- زندگی کا نقشہ ہمیں خود بنانا پڑتا ہے
کہ سب واضح ہو جائے،
تو شاید آپ رک گئے ہیں۔
ایک قدم بڑھائیں—
نامکمل نقشہ بھی
آپ کو آگے لے جا سکتا ہے۔
— اختتام —