آخری بس اسٹاپ
عمران کو بس اسٹاپ ہمیشہ عجیب لگتے تھے۔
لوگوں سے بھرے،
مگر پھر بھی تنہا۔
وہ ہر صبح اسی بس اسٹاپ پر آتا،
ہاتھ میں فائل،
دل میں بے یقینی،
اور آنکھوں میں نیند۔
بس آتی،
لوگ سوار ہوتے،
اور عمران کھڑکی کے پاس بیٹھ کر
باہر کی دنیا کو پیچھے چھوڑتا جاتا۔
اس کی زندگی بھی کچھ ایسی ہی تھی—
چلتی رہتی،
مگر کہیں ٹھہرتی نہیں۔
عمران ایک اچھی نوکری میں تھا،
تنخواہ مناسب تھی،
مگر دل خالی تھا۔
وہ برسوں سے وہی کام کر رہا تھا
جس سے اسے کبھی محبت نہیں ہوئی تھی۔
لوگ کہتے:
“شکر کرو، آج کل نوکری ملنا آسان نہیں۔”
اور عمران خاموش ہو جاتا۔
ایک دن بس اسٹاپ پر
ایک بوڑھا شخص بیٹھا تھا۔
ہاتھ میں پرانا سا بیگ،
اور آنکھوں میں عجیب سی چمک۔
بس دیر سے آ رہی تھی۔
خاموشی لمبی ہو گئی۔
بوڑھے نے اچانک کہا:
“بیٹا، تم روز کہاں جاتے ہو؟”
عمران نے آہستہ سے جواب دیا:
“نوکری پر۔”
بوڑھا مسکرایا:
“اور دل کہاں جاتا ہے؟”
یہ سوال عمران کے لیے نیا تھا۔
اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔
اگلے کئی دنوں تک
وہی بوڑھا
اسی بس اسٹاپ پر ملتا رہا۔
کم باتیں،
مگر گہری۔
ایک دن بوڑھے نے کہا:
“ہر بس کی ایک آخری منزل ہوتی ہے،
مگر ہر مسافر کو یہ حق حاصل ہے
کہ وہ جہاں چاہے اتر جائے۔”
عمران نے پہلی بار
بس کے اندر خود کو قید محسوس کیا۔
اسی رات
وہ دیر تک جاگتا رہا۔
سوچتا رہا کہ
اگر وہ بس سے اتر گیا تو؟
اگر وہ ڈر کے بغیر
اپنی مرضی کا راستہ چن لے تو؟
اگلے دن
بس نے معمول کے مطابق رفتار پکڑی،
مگر عمران کا دل تیز دھڑک رہا تھا۔
ایک اسٹاپ آیا—
وہاں اس نے کبھی نہیں اترا تھا۔
بس رکی۔
دروازہ کھلا۔
عمران کھڑا ہوا۔
ایک لمحے کے لیے
خوف نے ہاتھ پکڑا،
مگر پھر اس نے قدم باہر رکھ دیا۔
بس چل پڑی۔
اور عمران
خالی سڑک پر کھڑا رہ گیا۔
ہوا ٹھنڈی تھی،
سورج نکل رہا تھا،
اور دل—
ہلکا۔
وہ نہیں جانتا تھا
آگے کیا ہوگا،
مگر پہلی بار
وہ یہ جانتا تھا
کہ وہ خود چل رہا ہے۔
وہ مسکرایا۔
یہ اس کا آخری بس اسٹاپ نہیں تھا—
یہ اس کی نئی شروعات تھی۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- زندگی کا سفر خود منتخب کرنا پڑتا ہے
- خوف ہمیں بس میں بٹھائے رکھتا ہے
- اترنا مشکل ضرور ہے، ناممکن نہیں
- نئی شروعات اکثر ایک فیصلے کے فاصلے پر ہوتی ہے
کہ زندگی آپ کو کہیں لے جا رہی ہے
جہاں آپ جانا نہیں چاہتے،
تو یاد رکھیں—
دروازہ ہر اسٹاپ پر کھلتا ہے۔
فیصلہ صرف آپ کا ہوتا ہے۔
— اختتام —