← تمام اردو کہانیاں

ریت پر لکھا نام

A name written on wet sand near the sea, gentle waves approaching, soft evening light

فہد سمندر کے کنارے خاموش بیٹھا تھا۔
ہاتھ میں لکڑی کی ایک پتلی سی شاخ،
اور سامنے پھیلی ہوئی گیلی ریت۔

وہ بار بار ایک ہی نام لکھتا—
اور پھر خود ہی مٹا دیتا۔

یہ اس کا پرانا معمول بن چکا تھا۔

سمندر کی لہریں آتیں،
ریت ہلتی،
اور نام غائب ہو جاتا۔

فہد کو اس مٹتے ہوئے نام میں
عجیب سا سکون ملتا تھا—
جیسے وہ کسی بوجھ کو
آہستہ آہستہ چھوڑ رہا ہو۔

یہ نام اس شخص کا تھا
جو کبھی اس کی زندگی کا
مرکز ہوا کرتا تھا۔

دوستی سے شروع ہونے والا رشتہ
خاموشیوں میں بدل گیا تھا۔
نہ کوئی جھگڑا،
نہ کوئی الزام—
بس وقت نے فاصلے بڑھا دیے تھے۔

فہد اکثر سوچتا تھا
کہ اگر وہ اس وقت
کچھ اور کہہ دیتا،
کچھ اور کر لیتا،
تو شاید کہانی مختلف ہوتی۔

ایک شام
اس کے برابر ایک بچہ آ کر بیٹھ گیا۔
اس نے بھی ریت پر کچھ لکھا—
اپنا نام۔

پھر زور سے ہنسا
اور بولا:
“انکل، یہ دیکھیں،
میرا نام!”

اچانک ایک لہر آئی
اور سب مٹا گئی۔

بچے نے حیرت سے دیکھا،
پھر مسکرا کر کہا:
“کوئی بات نہیں،
دوبارہ لکھ لوں گا۔”

فہد نے بچے کو دیکھا—
اس کے چہرے پر
کوئی افسوس نہیں تھا۔

وہ لمحہ فہد کے دل میں اتر گیا۔

اس نے دوبارہ ریت پر نام لکھا،
مگر اس بار
مٹایا نہیں۔

اس نے لہروں کو آنے دیا۔

جب نام غائب ہوا
تو اس نے گہری سانس لی—
اور پہلی بار
اس کے دل میں درد کے ساتھ
قبولیت بھی تھی۔

اگلے دن
وہ سمندر پر آیا،
مگر شاخ ساتھ نہیں لایا۔

وہ جان چکا تھا
کہ کچھ نام
لکھے نہیں جاتے—
انہیں یاد رکھا جاتا ہے،
اور پھر احترام کے ساتھ
چھوڑ دیا جاتا ہے۔

فہد اٹھا،
ریت جھاڑی،
اور آگے بڑھ گیا۔

سمندر پیچھے رہ گیا—
مگر دل ہلکا ہو چکا تھا۔



معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:

اگر آپ بھی کسی نام کو
بار بار دل میں لکھ رہے ہیں،
تو یاد رکھیں—
کبھی کبھی
لہروں کو آنے دینا ہی
اصل شفا ہوتا ہے۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی