آدھا دیا
نادیہ کے کمرے میں ایک چھوٹا سا دیا رکھا تھا۔ مٹی کا، سادہ، اور آدھا بھرا ہوا۔
وہ دیا اسے اپنی ماں سے ملا تھا— اسی دن جب ماں ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی تھی۔
نادیہ نے وہ دیا کبھی پورا نہیں بھرا۔ نہ جانے کیوں، وہ ڈرتی تھی کہ اگر دیا پورا ہو گیا تو کہیں سب کچھ ختم نہ ہو جائے۔
زندگی بھی اس دیے جیسی تھی— آدھی خوشی، آدھی ادھوری خواہشیں، اور آدھا حوصلہ۔
باپ کے جانے کے بعد نادیہ نے چھوٹی سی نوکری شروع کی۔ تنخواہ کم تھی، خواب بڑے۔
وہ دن بھر کام کرتی، اور رات کو دیے کے سامنے بیٹھ کر خود سے باتیں کرتی۔
“کیا میں کر پاؤں گی؟” وہ اکثر پوچھتی۔
دیا خاموش جلتا رہتا۔
ایک رات بجلی چلی گئی۔ اندھیرا گہرا تھا، اور دل اس سے بھی زیادہ۔
نادیہ نے دیا جلایا۔ روشنی کم تھی، مگر کافی۔
اسی روشنی میں اس نے اپنی فائلیں نکالیں— وہی فائلیں جنہیں وہ مہینوں سے چھو نہیں سکی تھی۔
درخواستیں، امتحان کے فارم، اور ایک خواب— جسے وہ مسلسل ٹالتی آ رہی تھی۔
صبح تک دیا جلتا رہا۔ تیل کم تھا، مگر روشنی قائم۔
اگلے دن نادیہ نے فارم جمع کروائے۔ ڈرتے ہاتھوں سے، مگر مضبوط ارادے کے ساتھ۔
مہینوں بعد نتیجہ آیا۔ وہ منتخب ہو گئی تھی۔
اس رات نادیہ نے پہلی بار دیے کو پورا بھر دیا۔
جب دیا روشن ہوا تو کمرہ جگمگا اٹھا۔ مگر نادیہ مسکرائی— اسے معلوم تھا کہ اصل طاقت پورے تیل میں نہیں، بلکہ اس آدھے دیے میں تھی جو مشکل وقت میں بجھے بغیر جلتا رہا۔
اس نے دیے کو دیکھا اور آہستہ کہا: “شکریہ… تم نے مجھے ہارنے نہیں دیا۔”
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- مکمل حالات کا انتظار ہمیں روک دیتا ہے
- آدھی طاقت بھی اگر استعمال ہو تو کافی ہوتی ہے
- امید کی چھوٹی سی روشنی اندھیرے کو شکست دے سکتی ہے
- خود پر یقین سب سے روشن دیا ہے
— اختتام —