کھلا دروازہ
سلمان نے اس دروازے کو کبھی غور سے نہیں دیکھا تھا۔
وہ روز اسی راہداری سے گزرتا، نظریں جھکائے، قدم تیز۔
یہ سرکاری دفتر تھا— لمبی قطاریں، بوجھل فائلیں، اور تھکے ہوئے چہرے۔
سلمان ایک معمولی کلرک تھا۔ کام وقت پر، غلطی کم، مگر آواز— بالکل نہیں۔
وہ جانتا تھا کہ اس میں صلاحیت ہے، مگر خوف اس کی زبان پر تالہ بن کر لگ چکا تھا۔
ایک دن اسے پتا چلا کہ ایک اعلیٰ عہدے کے لیے درخواستیں لی جا رہی ہیں۔
ساتھیوں نے کہا: “یہ ہمارے بس کی بات نہیں۔”
سلمان نے بھی خاموشی سے سر ہلایا— جیسے وہ خود کو قائل کر رہا ہو۔
اسی دن واپسی پر اس کی نظر راہداری کے آخر میں ایک آدھے کھلے دروازے پر پڑی۔
اندر سے روشنی آ رہی تھی۔
وہ رکا۔ دل تیز دھڑکا۔ یہ وہ کمرہ تھا جہاں وہ کبھی نہیں گیا تھا— نہ کسی نے بلایا، نہ اس نے ہمت کی۔
وہ آگے بڑھا، پھر رک گیا۔
دماغ نے کہا: “ضرورت نہیں۔” دل نے کہا: “کوشش تو کر۔”
سلمان نے ہلکے سے دروازہ کھٹکھٹایا۔
اندر سے آواز آئی: “آ جائیے۔”
کمرے میں سینئر افسر بیٹھے تھے۔ حیران، مگر متجسس۔
سلمان نے اپنا خیال رکھا— کانپتی آواز میں، مگر سچائی کے ساتھ۔
اس نے بتایا کہ وہ برسوں سے یہی کام بہتر طریقے سے کر رہا ہے، اور اب آگے بڑھنا چاہتا ہے۔
کمرہ خاموش ہو گیا۔
پھر ایک افسر نے کہا: “ہمیں ایسے ہی لوگوں کی ضرورت ہے جو خود چل کر آئیں۔”
چند ہفتوں بعد نتیجہ آیا۔
سلمان کا تبادلہ ہو گیا تھا— نئے عہدے پر۔
اسی راہداری میں اب بھی وہی دروازہ تھا، مگر سلمان مختلف تھا۔
وہ جان چکا تھا کہ دروازے ہمیشہ بند نہیں ہوتے— اکثر ہم خود ان کے پاس نہیں جاتے۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- ہر موقع دستک نہیں دیتا
- بعض اوقات پہل ہمیں کرنی ہوتی ہے
- خوف ہمیں وہیں روکے رکھتا ہے جہاں سے آگے راستہ نکلتا ہے
- خود پر یقین سب سے بڑی سفارش ہے
— اختتام —