وقت کی جیب
نعیم کو ہمیشہ جلدی رہتی تھی۔ بات کرتے ہوئے، چلتے ہوئے، اور حتیٰ کہ جیتے ہوئے بھی۔
وہ کہتا تھا: “ابھی وقت ہے، کل کر لیں گے۔”
یہ جملہ اس کی زندگی کا سب سے زیادہ استعمال ہونے والا جملہ تھا۔
دفتر سے گھر، گھر سے موبائل، اور موبائل سے نیند— یہی اس کا معمول تھا۔
ماں اکثر کہتی: “بیٹا، میرے ساتھ چائے پی لیا کرو۔”
نعیم مسکرا کر کہتا: “امی، ابھی کام ہے۔”
وقت گزرتا گیا۔ امی کی آواز آہستہ آہستہ کم ہوتی گئی۔
ایک دن نعیم کو ایک پرانی جیکٹ ملی۔ اسی جیکٹ کی جیب میں ایک گھڑی تھی— بغیر کانٹے کی۔
وہ گھڑی اس کے والد کی تھی جو برسوں پہلے گزر چکے تھے۔
نعیم نے گھڑی کو ہتھیلی پر رکھا۔ وہ چل نہیں رہی تھی، مگر پھر بھی بھاری لگ رہی تھی۔
اسی رات امی نے آہستہ سے کہا: “وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا، بیٹا۔”
یہ الفاظ نعیم کے دل میں کچھ توڑ گئے۔
کچھ ہی ہفتوں بعد امی بستر سے لگ گئیں۔ اب نعیم کے پاس وقت تھا— مگر دیر ہو چکی تھی۔
وہ روز ان کے پاس بیٹھتا، خاموشی سے۔
ایک دن امی نے اس کی ہتھیلی پر ہاتھ رکھا اور کہا: “زندگی وقت نہیں مانگتی، توجہ مانگتی ہے۔”
یہ ان کے آخری الفاظ تھے۔
امی کے جانے کے بعد نعیم نے جیکٹ دوبارہ پہنی۔ جیب میں ہاتھ ڈالا— وہی گھڑی۔
اس نے گھڑی کو مرمت کروانے کا فیصلہ کیا۔
جب گھڑی ٹھیک ہوئی تو کانٹے چلنے لگے— مگر نعیم کے لیے ہر سیکنڈ ایک یاد بن چکا تھا۔
اب وہ جلدی میں نہیں رہتا تھا۔ وہ وقت کو جیب میں نہیں ڈالتا تھا— وہ وقت میں خود کو ڈالتا تھا۔
پارک کی بینچ پر بیٹھ کر وہ اکثر سوچتا: کاش… میں نے وقت کی جیب پہلے بھر لی ہوتی۔
مگر پھر وہ مسکراتا— کیونکہ اب اسے معلوم تھا کہ جو وقت بچا ہے، وہ خالی نہیں جانے دے گا۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- وقت جمع نہیں ہوتا، استعمال ہوتا ہے
- “کل” کا وعدہ اکثر ادھورا رہ جاتا ہے
- رشتوں کو وقت نہیں، توجہ چاہیے
- خالی جیب سب سے مہنگا سبق دیتی ہے
— اختتام —