ادھورا خط
زاہد کے کمرے میں ایک دراز ہمیشہ بند رہتی تھی۔ اس میں کپڑے نہیں، یادیں رکھی تھیں۔
ہر اتوار وہ دراز کھولتا، ایک کاغذ نکالتا، اور قلم ہاتھ میں لے لیتا۔
خط— جو کبھی مکمل نہ ہوا۔
یہ خط اس کے بڑے بھائی کے نام تھا۔
دونوں ایک ہی گھر میں پلے بڑھے، ایک ہی صحن میں کھیلے، مگر انا انہیں دو مختلف سمتوں میں لے گئی۔
چھوٹی سی بات سے بحث شروع ہوئی، اور پھر خاموشی برسوں لمبی ہو گئی۔
زاہد نے کئی بار سوچا کہ فون کر لے، ملنے چلا جائے، مگر ہر بار دل نے کہا: “پہل کیوں میں کروں؟”
اور قلم رک جاتا۔
خط کے پہلے صفحے پر صرف اتنا لکھا تھا: “بھائی جان—”
اس کے بعد خالی جگہ۔
ایک دن زاہد کو خبر ملی کہ بھائی شدید بیمار ہے۔
اس نے دراز کھولی، خط نکالا، اور لکھنے بیٹھ گیا۔
ہاتھ کانپ رہے تھے، الفاظ بکھر رہے تھے۔
اس نے لکھا کہ وہ ناراض نہیں تھا، بس انا ہار ماننے کو تیار نہیں تھی۔
کہ اس نے ہر خوشی بھائی کے بغیر ادھوری محسوس کی۔
مگر خط پھر بھی مکمل نہ ہو سکا۔
اگلے دن وہ ہسپتال پہنچا۔
کمرے میں خاموشی تھی، مشینوں کی آوازیں، اور ایک مانوس چہرہ۔
بھائی نے آنکھیں کھولیں، اور آہستہ مسکرایا۔
زاہد کچھ نہ کہہ سکا۔ اس نے بس بھائی کا ہاتھ تھاما۔
بھائی نے کہا: “خط لکھا تھا نا؟”
زاہد چونک گیا۔ “آپ کو کیسے پتا؟”
بھائی نے ہلکی ہنسی کے ساتھ کہا: “خاموشی بھی خط ہی ہوتی ہے۔”
آنکھوں سے آنسو بغیر اجازت بہہ نکلے۔
چند لمحوں بعد بھائی سو گیا— ہمیشہ کے لیے۔
گھر آ کر زاہد نے خط دراز میں واپس رکھا، مگر اب وہ خالی نہیں تھا۔
وہ جان چکا تھا کہ کچھ باتیں کاغذ کی محتاج نہیں ہوتیں، اور کچھ تاخیر واپس نہیں آتی۔
اس نے دراز بند کی— نرم ہاتھوں سے۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- انا رشتوں سے بڑی نہیں ہوتی
- کہی نہ گئی باتیں سب سے زیادہ بوجھ بن جاتی ہیں
- پہل کرنا کمزوری نہیں، سمجھداری ہے
- وقت معافی نہیں مانگتا، بس گزر جاتا ہے
— اختتام —