آخری سیڑھی
احمد کو سیڑھیاں ہمیشہ مشکل لگتی تھیں۔ چاہے وہ اسکول کی ہوں یا زندگی کی۔
وہ ہر مقابلے میں بس تھوڑا سا پیچھے رہ جاتا۔ نمبر کم، تعریف کم، اور اعتماد— سب سے کم۔
لوگ کہتے تھے: “تم میں صلاحیت ہے، بس قسمت ساتھ نہیں دیتی۔”
احمد مسکرا دیتا، مگر دل میں جانتا تھا کہ مسئلہ قسمت کا نہیں، ہمت کا ہے۔
ایک دن اسے شہر سے باہر ایک نوکری کا موقع ملا۔ انٹرویو ایک لمبی عمارت میں تھا— لفٹ خراب۔
سب امیدوار سیڑھیاں چڑھ رہے تھے۔
پہلی منزل پر احمد کا سانس پھول گیا۔ دوسری پر ٹانگیں بھاری ہو گئیں۔
تیسری پر دل نے کہا: “بس کر دو۔”
کچھ لوگ آگے نکل چکے تھے۔
احمد نے ریلنگ پکڑی، آنکھیں بند کیں، اور خود سے کہا: “بس ایک سیڑھی اور۔”
وہ یہ جملہ ہر سیڑھی پر دہراتا رہا۔
چوتھی، پانچویں، چھٹی…
آخرکار وہ آخری سیڑھی پر پہنچ گیا۔
اوپر روشنی تھی، کھلی ہوا، اور ایک خاموش کمرہ۔
انٹرویو سادہ تھا۔ سوال کم، توجہ زیادہ۔
احمد نے اپنی ناکامیوں کے بارے میں بتایا— بغیر شرمندگی کے۔
اس نے کہا: “میں تیز نہیں، مگر رکنے والا بھی نہیں۔”
چند دن بعد فون آیا۔
نوکری اسی کی تھی۔
احمد اس عمارت کے باہر دوبارہ کھڑا تھا، سیڑھیوں کو دیکھتے ہوئے۔
وہ مسکرایا۔ سیڑھیاں بدلی نہیں تھیں— وہ بدل گیا تھا۔
اب وہ جانتا تھا کہ زندگی میں ہر سیڑھی ضروری نہیں،
مگر آخری سیڑھی اکثر فیصلہ کر دیتی ہے کہ ہم کون ہیں۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- ناکامی رفتار نہیں، رُک جانا ہوتی ہے
- تھکن ہار نہیں، صرف ایک اشارہ ہے
- خود سے کہا گیا ایک سچا جملہ بہت دور لے جا سکتا ہے
- آخری قدم اکثر سب سے مشکل اور سب سے قیمتی ہوتا ہے
وہی سیڑھی آپ کی زندگی بدل دے۔
— اختتام —