← تمام اردو کہانیاں

روشنی کا وعدہ

سورج کی پہلی کرن کسی ٹوٹی ہوئی کھڑکی سے اندر آ رہی ہے، اور روشنی ایک پرانے نوٹ بُک پر پڑی ہے۔

وہ صبح عام نہیں تھی۔ کمرے میں بکھری کتابیں، بند کھڑکی، اور دل جو تھک چکا تھا۔ مریم نے گھڑی دیکھی — سات بج چکے تھے، مگر دن جیسے آنے سے انکار کر رہا تھا۔ وہ پچھلے دو برس سے بے روزگار تھی، خواب مٹی کی طرح ہاتھوں سے پھسل گئے تھے۔ “کب تک ایسے؟” اس نے آئینے سے پوچھا۔ آئینہ خاموش رہا۔

اسی لمحے دروازہ بجا — ہلکی سی دستک۔ دروازہ کھولا تو ایک بچی کھڑی تھی، ہاتھ میں پھول۔ “آنٹی، آپ کے صحن میں یہ گلاب گرا تھا، واپس دے رہی ہوں۔” مریم کے لبوں پر برسوں بعد ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔ اس نے شکریہ کہا اور پھول میز پر رکھا — جہاں کبھی اس کے خواب رکھے تھے۔

اس دن مریم نے پہلی بار کھڑکی کھولی۔ ہوا اندر آئی — اور اس کے ساتھ وہ پرانی خوشبو، جیسے کوئی کہہ رہا ہو، “ابھی سب ختم نہیں ہوا۔” اس نے پرانی نوٹ بُک اٹھائی۔ آخری صفحہ پر لکھا تھا: “جب سب کچھ ٹوٹ جائے، خود کو لکھ لینا۔”

اگلے دن وہ ایک اسکول گئی، جہاں بچوں کو کہانیاں سنانے کی نوکری خالی تھی۔ انٹرویو میں اس سے پوچھا گیا، “آپ کے پاس تجربہ ہے؟” اس نے مسکرا کر کہا، “میں نے خود کو دوبارہ جینا سیکھا ہے — اس سے بڑا تجربہ کیا ہو سکتا ہے؟”

شام کو جب وہ لوٹی، سورج ڈوب رہا تھا۔ گلاب اب بھی میز پر رکھا تھا، مگر اس کے رنگ جیسے اور گہرے ہو گئے ہوں۔ شاید زندگی بھی یہی ہے — جب ہم ہار مان لیتے ہیں، تب وہ چپکے سے واپس آ جاتی ہے۔

مفہوم / عکاسی:
“روشنی کا وعدہ” ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ زندگی کبھی واقعی ختم نہیں ہوتی۔ وہ صرف انتظار کرتی ہے کہ ہم دوبارہ دروازہ کھولیں۔ کبھی کبھار، ایک معمولی لمحہ پوری زندگی بدل دیتا ہے — بس شرط یہ ہے کہ ہم اس لمحے کو پہچان لیں۔

— اختتام —