بارش کے بعد
بارش برس رہی تھی — آہستہ، مسلسل، جیسے کسی پرانی دھڑکن کی گونج۔ کھڑکی کے شیشے پر قطرے پھسلتے جا رہے تھے، اور میں نے سوچا، شاید وہ بھی کبھی ایسے ہی واپس آ جائے۔
میز پر رکھا وہ خط اب بھی ادھورا تھا۔ “میں تمہیں کہنا چاہتا تھا…” اس کے بعد سیاہی پھیل گئی تھی — شاید ہاتھ کانپ گیا تھا یا دل۔ میں نے آج کئی سال بعد وہی قلم اٹھایا، مگر الفاظ کہیں گم ہو گئے تھے۔
کبھی کبھی انسان کہہ نہیں پاتا، اور وقت بھی سننے سے انکار کر دیتا ہے۔ مگر یاد؟ وہ ہمیشہ دروازہ کھلا رکھتی ہے۔ جیسے آج — جب ایک خوشبو، ایک پرانی دھن، سب کچھ دوبارہ اسی لمحے میں لے آئی جہاں سب ختم ہوا تھا۔
باہر گرج چمک کے ساتھ ہوا تیز ہو گئی۔ میں نے کھڑکی بند کی، مگر ایک قطرہ اندر آ گیا — سیدھا خط کے اوپر گرا۔ الفاظ دھندلا گئے، جیسے وقت نے ان پر ہاتھ رکھ دیا ہو۔
اچانک فون بجا — نام وہی تھا جو برسوں سے خاموش تھا۔ میں نے اسکرین دیکھی، مگر جواب نہ دیا۔ کچھ لوگ لوٹ آتے ہیں، مگر احساس نہیں۔ اور کبھی، احساس رہ جاتا ہے، لوگ نہیں۔
بارش تھم گئی۔ میں نے خط تہہ کر کے الماری میں رکھ دیا۔ شاید کسی اور موسم میں، میں اسے مکمل کر پاؤں۔ مگر آج نہیں — آج صرف سننا ہے، کہنا نہیں۔
مفہوم / عکاسی:
“بارش کے بعد” یہ سکھاتی ہے کہ ہر ادھوری بات اداسی نہیں ہوتی —
کچھ خاموشیاں دعا بن کر زندہ رہتی ہیں۔
محبت ختم نہیں ہوتی، وہ بس اپنا موسم بدل لیتی ہے۔
— اختتام —