پردہ گرا نہیں تھا
تھیٹر کے دروازے بند تھے، مگر اندر لائٹ جل رہی تھی۔ صوفیہ نے آہستہ سے قدم رکھا۔ فرش پر گرد جمی تھی، اور ہوا میں پرانے مکالموں کی بازگشت — وہ مکالمے جو کبھی تالیوں میں گم ہو گئے تھے۔
اسٹیج کے بیچوں بیچ اس نے وہی سرخ لباس رکھا جو اس کے کیریئر کے عروج پر پہنا تھا۔ “آج آخری سین rehearse کرنا ہے،” اس نے خود سے کہا، مگر آواز کسی اور زمانے کی طرح گونجی۔
اچانک پردے کے پیچھے سے ہنسی سنائی دی۔ وہ چونکی — جیسے کوئی پرانا ساتھی واپس آیا ہو۔ “یہ تم ہو، ارحم؟” جواب آیا، “ہاں صوفیہ، مگر اب اسٹیج تمہارا نہیں رہا۔”
صوفیہ نے آنکھیں بند کیں۔ “یہ اسٹیج میرا گھر ہے، میں نے یہاں سب کچھ دیا۔ اپنی نیند، اپنی محبت، اپنا وقت — سب کچھ۔” ارحم کی آواز ہوا میں تحلیل ہو گئی، “پھر اب یہاں خاموشی کیوں ہے؟”
وہ مسکرائی۔ “کیونکہ اب میں اداکاری نہیں کر رہی، آج میں سچ بولوں گی۔” اس نے لیمپ آن کیا، اسٹیج کے بیچ کھڑی ہو گئی، اور بولا، “یہ میرا آخری منظر ہے — بغیر تماش بینوں کے۔”
روشنی مدھم ہوئی۔ اس نے وہی مکالمہ دہرایا جس سے کبھی سب رو پڑے تھے، مگر آج آنسو صرف اس کے تھے۔ بول ختم ہوئے تو ہال میں گہری خاموشی چھا گئی۔ پردہ آہستہ سے نیچے آیا — مگر وہ اب بھی کھڑی تھی۔
اگلے دن اخبار میں ایک مختصر خبر چھپی: *“صوفیہ خان، مشہور تھیٹر آرٹسٹ، کل رات اسٹیج پر دل کا دورہ پڑنے سے چل بسیں۔ پردہ گرا نہیں تھا — مگر کہانی مکمل ہو چکی تھی۔”*
مفہوم / عکاسی:
“پردہ گرا نہیں تھا” ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ کچھ کردار اسٹیج سے نہیں جاتے —
وہ ہماری یادوں میں زندہ رہتے ہیں۔
اصل ڈرامہ وہ نہیں جو لوگ دیکھتے ہیں، بلکہ وہ ہے جو انسان اپنے اندر جیتا ہے۔
— اختتام —