← تمام اردو کہانیاں

آخری سوال

ایک پرانی لکڑی کی میز پر رکھا مائیکروفون، جس کے پیچھے خالی کرسی پر دھوپ پڑ رہی ہے۔

اسٹوڈیو خاموش تھا۔ میز پر مائیکروفون رکھا تھا، سامنے خالی کرسی۔ میں نے ریکارڈر آن کیا اور آہستہ سے کہا، “آج میرا آخری انٹرویو ہے۔” پھر توقف کیا، جیسے کوئی جواب دینے والا ہو۔ اور عجیب بات یہ کہ جواب آیا — ایک مدھم سی آواز، “پہلا سوال کرو۔”

میں نے قلم سیدھا کیا، دل کی دھڑکن سنائی دے رہی تھی۔ “آپ کون ہیں؟” جواب آیا، “میں وقت ہوں۔ جس کے پاس سب آتے ہیں، مگر کوئی رکتا نہیں۔” میں نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، “تو آج آپ رک جائیں۔”

وقت بولا، “میں ہمیشہ رکتا ہوں، بس لوگ دیکھ نہیں پاتے۔ جب کوئی اپنے بچے کی پہلی ہنسی دیکھتا ہے، جب کوئی پرانا خط پڑھتا ہے، یا جب کسی کو یاد آتا ہے کہ وہ کبھی خوش تھا — وہ لمحہ، میں ہوں۔”

میں نے اگلا سوال کیا، “کیا آپ سب کو برابر دیتے ہیں؟” آواز تھوڑی بھاری ہوئی، “نہیں، میں سب کو ایک جتنا دیتا ہوں — مگر سب اسے الگ الگ طریقے سے ضائع کرتے ہیں۔ کوئی خوابوں میں، کوئی شک میں، کوئی جلدی میں۔”

اسٹوڈیو میں ہوا رک سی گئی۔ میں نے آخری سوال پوچھا، “کیا کبھی آپ تھکتے ہیں؟” لمحہ بھر خاموشی رہی، پھر جواب آیا، “میں نہیں تھکتا، مگر انسان تھک جاتے ہیں — اس لیے میں انہیں نیند دیتا ہوں، تاکہ وہ کل دوبارہ کوشش کریں۔”

ریکارڈر بند کیا، مگر آواز اب بھی کانوں میں تھی۔ خالی کرسی دھوپ میں چمک رہی تھی — جیسے ابھی کوئی اٹھ کر گیا ہو۔ میں نے نوٹ بک بند کی اور دل میں سوچا، شاید انٹرویو ختم ہو گیا، مگر سوال اب بھی زندہ ہیں۔

مفہوم / عکاسی:
“آخری سوال” ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ وقت کوئی دشمن نہیں — یہ وہ ساتھی ہے جو ہر روز ہمیں نیا موقع دیتا ہے۔ اصل انٹرویو، زندگی خود ہے — اور ہم سب اس کے جواب تلاش کرنے والے سوال ہیں۔

— اختتام —