← تمام اردو کہانیاں

خالی بینچ

An empty park bench under a tree in autumn, fallen leaves, soft evening light, lonely yet peaceful mood

پارک کے کونے میں وہ بینچ برسوں سے پڑی تھی۔ لوگ آتے، کچھ دیر بیٹھتے، اور پھر چلے جاتے۔

مگر شام کے وقت وہ اکثر خالی رہتی۔

سلیم ہر روز اسی بینچ کے پاس سے گزرتا، مگر بیٹھتا نہیں تھا۔ اسے لگتا تھا کہ خالی جگہیں دل کو اور خالی کر دیتی ہیں۔

سلیم کی بیوی دو سال پہلے اس دنیا سے جا چکی تھی۔ اس کے بعد گھر بھی ویسا ہی خالی تھا جیسی وہ بینچ۔

ایک شام بارش ہونے والی تھی۔ پارک میں لوگ کم تھے، اور وہ بینچ اکیلی کھڑی تھی۔

سلیم تھک چکا تھا۔ قدم خود بخود بینچ کی طرف مڑ گئے۔

وہ بیٹھ گیا— پہلی بار۔

کچھ دیر بعد ایک ضعیف شخص آہستہ آہستہ چلتا ہوا آیا اور اسی بینچ کے دوسرے کونے پر بیٹھ گیا۔

دونوں خاموش تھے۔ نہ تعارف، نہ سوال۔

بس خاموشی— مگر بوجھل نہیں۔

کچھ منٹ بعد بوڑھے شخص نے کہا: “خالی بینچ اکیلے لوگوں کو خود ہی پہچان لیتی ہے۔”

سلیم چونکا، مگر مسکرایا۔

اگلے دن وہ پھر آیا۔ بینچ پر بیٹھا، اور اس بار انتظار کیا۔

بوڑھا شخص آیا، پھر ایک دن ایک نوجوان لڑکی بھی آ کر بیٹھ گئی— آنکھوں میں آنسو، ہاتھ میں فون۔

آہستہ آہستہ یہ بینچ خاموش لوگوں کی جگہ بن گئی۔ کوئی اپنی کہانی کہتا، کوئی صرف سنتا۔

کوئی نصیحت نہیں، کوئی حل نہیں— بس موجودگی۔

کچھ ہفتوں بعد سلیم نے محسوس کیا کہ اس کا دل پہلے جیسا بھاری نہیں رہا۔

ایک دن وہ بوڑھا شخص نہیں آیا۔

دوسرے دن بھی نہیں۔

تیسرے دن سلیم نے بینچ پر بیٹھ کر اس کے لیے دعا کی— بغیر نام جانے۔

اس نے پہلی بار محسوس کیا کہ خالی بینچ اب خالی نہیں رہی۔

وہ اٹھا، اور جاتے ہوئے ہلکے سے بینچ پر ہاتھ پھیرا۔

کچھ جگہیں لوگوں سے نہیں، احساس سے بھرتی ہیں۔



معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:

اگر آپ کو لگے کہ آپ کے اندر بہت خالی پن ہے، تو کسی خالی بینچ پر بیٹھ جائیں— شاید وہاں کوئی اور بھی آپ جیسا ہی انتظار کر رہا ہو۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →