ادھوری دعا
زینب کی دعا ہمیشہ آدھی رہ جاتی تھی۔
وہ ہر نماز کے بعد ہاتھ اٹھاتی، لب ہلاتی، مگر آخری الفاظ گلے میں اٹک جاتے۔
اس کی زندگی باہر سے پرسکون لگتی تھی— چھوٹا سا گھر، سادہ سی نوکری، اور خاموش سی مسکراہٹ۔
مگر اندر ایک طوفان تھا۔
اس کا بیٹا علی برسوں سے بیمار تھا۔ علاج جاری تھا، مگر جواب ہمیشہ ادھورا۔
لوگ کہتے: “اللہ بہتر کرے گا۔”
زینب سر ہلا دیتی، مگر دل سوالوں سے بھرا رہتا۔
ایک رات علی کی حالت زیادہ بگڑ گئی۔ اسپتال کی سفید دیواریں، مشینوں کی آوازیں، اور ماں کا کانپتا ہوا دل۔
زینب وضو کر کے اسپتال کے ایک کونے میں بیٹھ گئی۔
اس نے دعا شروع کی— مگر اس بار کوئی لفظ نہیں نکلا۔
آنکھوں سے آنسو خاموشی سے بہتے رہے۔
وہ بس اتنا کہہ سکی: “یا اللہ… مجھے طاقت دے۔”
یہ پہلی دعا تھی جو اس نے خود کے لیے مانگی تھی۔
کچھ دن بعد علی کی حالت آہستہ آہستہ بہتر ہونے لگی۔
ڈاکٹر نے کہا: “معجزہ نہیں، مگر بہتری ہے۔”
زینب مسکرائی۔ وہ جان چکی تھی کہ اس کی دعا ادھوری نہیں رہی—
بس الگ طرح سے قبول ہوئی تھی۔
وہ اب بھی ہر نماز کے بعد ہاتھ اٹھاتی ہے، مگر جلدی نہیں کرتی۔
وہ جانتی ہے کہ رب خاموش دل کی آواز بھی سن لیتا ہے۔
اور بعض اوقات ادھوری دعا ہمیں وہ دے دیتی ہے جو ہم نے مانگنا بھی نہیں سیکھا ہوتا— حوصلہ، صبر، اور یقین۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
— اختتام —