آخری پیغام
عادل کے فون کی اسکرین مسلسل روشن ہو رہی تھی۔ ایک ہی نام— “احسان”
عادل نے فون الٹا رکھ دیا۔
وہ احسان سے مہینوں سے بات نہیں کر رہا تھا۔ چھوٹی سی غلط فہمی خاموشی میں بدل گئی، اور خاموشی انا میں۔
عادل خود کو کہتا: “بعد میں بات کر لوں گا۔”
مگر “بعد میں” ہمیشہ مصروف ہوتا ہے۔
اس رات فون پر ایک نیا پیغام آیا: “بس حال پوچھنا تھا۔”
عادل نے پڑھا، مگر جواب نہ دیا۔
اس نے سوچا: “کل۔”
صبح ایک اور پیغام آیا— “اگر ناراض ہو تو معاف کر دینا۔”
عادل کے دل میں کچھ ہلا، مگر اس نے پھر فون بند کر دیا۔
دوپہر کو ایک مشترکہ دوست کی کال آئی۔
آواز بھاری تھی۔ “احسان کو دل کا دورہ پڑا ہے… وہ نہیں رہا۔”
عادل کے ہاتھ سے فون گر گیا۔
اس نے کانپتے ہاتھوں سے چیٹ کھولی۔
آخری پیغام اب بھی وہیں تھا— “بس حال پوچھنا تھا۔”
الفاظ چھوٹے تھے، مگر وزن بے حد۔
عادل کو یاد آیا کہ احسان ہی تھا جو ہر مشکل میں سب سے پہلے آتا تھا۔
اور آج وہی سب سے آخر میں خاموش ہو گیا تھا۔
اس رات عادل نے جواب لکھا— حالانکہ وہ جانتا تھا کہ پیغام کبھی نہیں پہنچے گا۔
“مجھے معاف کر دینا… میں مصروف نہیں تھا، بس کمزور تھا۔”
اس نے میسج ڈیلیٹ نہیں کیا۔
مہینے گزر گئے، مگر وہ چیٹ اب بھی فون میں تھی۔
اب عادل ہر پیغام کا جواب دیتا ہے— فوراً نہیں تو دل سے۔
وہ جان چکا تھا کہ کچھ پیغامات آخری ہوتے ہیں، اور کچھ تاخیر واپس نہیں آتی۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- رابطہ توڑنا آسان، جوڑنا مشکل ہوتا ہے
- “بعد میں” سب سے خطرناک وعدہ ہے
- ایک سادہ سا پیغام کسی کے لیے بہت معنی رکھتا ہے
- پچھتاوا جواب کا متبادل نہیں ہوتا
— اختتام —