ادھورا خط
عائشہ کی دراز میں ایک لفافہ رکھا تھا۔ سفید، سادہ، اور بند۔
اس پر نام لکھا تھا— “امّی”
وہ خط کبھی بھی مکمل نہیں ہوا تھا۔
عائشہ نے اسے پہلی بار کالج کے آخری سال میں لکھا تھا، جب وہ شہر سے دور جانے والی تھی۔
وہ امّی سے بہت کچھ کہنا چاہتی تھی، مگر الفاظ ہمیشہ رک جاتے تھے۔
امّی سخت نہیں تھیں، بس خاموش تھیں۔ ان کی محبت باتوں میں نہیں، کاموں میں چھپی تھی۔
عائشہ نے خط میں لکھا تھا: “امّی، میں مضبوط بننا چاہتی ہوں، لیکن کبھی کبھی بچوں کی طرح رو دینا چاہتی ہوں…”
یہاں آ کر اس نے قلم رکھ دیا۔
زندگی آگے بڑھتی گئی۔ نوکری، ذمہ داریاں، اور مصروف دن۔
خط دراز میں ویسے ہی پڑا رہا۔
ایک دن امّی بیمار ہو گئیں۔
عائشہ دوڑی دوڑی گاؤں پہنچی۔ امّی بستر پر لیٹی تھیں، آنکھوں میں وہی پرانا سکون۔
عائشہ نے ان کا ہاتھ پکڑا، مگر کچھ کہہ نہ سکی۔
اُس رات اس نے دراز کھولی، خط نکالا، اور پڑھنے لگی۔
اسے احساس ہوا کہ جو کچھ وہ خط میں کہنا چاہتی تھی، وہی سب امّی پہلے ہی سمجھ چکی تھیں۔
اگلی صبح عائشہ نے خط امّی کے تکیے کے نیچے رکھ دیا۔
کچھ دن بعد امّی خاموشی سے چلی گئیں۔
عائشہ نے لفافہ کھولا۔ خط کے آخر میں امّی کے ہاتھ کی تحریر تھی:
“بیٹی، کچھ باتیں لکھی نہیں جاتیں، محسوس کی جاتی ہیں۔
اور میں نے تمہیں ہمیشہ سمجھا ہے۔”
عائشہ روئی، مگر اس بار دل ہلکا تھا۔
وہ جان چکی تھی کہ کچھ خط ادھورے ہو کر بھی پورے ہو جاتے ہیں۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- اظہار کے کئی راستے ہوتے ہیں
- خاموش محبت سب سے گہری ہو سکتی ہے
- ہر بات کہی جائے، یہ ضروری نہیں
- سمجھا جانا سب سے بڑی تسلی ہے
— اختتام —