خاموش گھڑی
حمزہ کے کمرے میں دیوار پر ایک پرانی گھڑی لگی تھی۔ وہ برسوں سے خراب تھی— نہ ٹک ٹک، نہ کانٹا ہلتا۔
حمزہ نے کبھی اسے اتارنے کی زحمت نہیں کی۔ وہ کہتا تھا: “وقت تو ویسے بھی میرے حق میں نہیں چلتا۔”
وہ ایک متوسط گھرانے کا لڑکا تھا، خواب بڑے تھے اور فیصلے ہمیشہ مؤخر۔
نوکری کا انٹرویو آئے، تو وہ کہتا: “اگلی بار بہتر تیاری کروں گا۔”
امّی آواز دیتیں، تو وہ کہتا: “بس یہ کام ختم ہو جائے۔”
دوست ملنے بلاتے، تو جواب ہوتا: “کل دیکھتے ہیں۔”
اس کی زندگی میں “کل” بہت مضبوط لفظ تھا۔
ایک دن ابّو کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی۔ ہسپتال کی سفید دیواروں میں حمزہ پہلی بار خود کو چھوٹا محسوس کرنے لگا۔
ابّو نے آہستہ سے کہا: “وقت واپس نہیں آتا، بیٹا۔”
یہ جملہ حمزہ کے دل میں اٹک گیا۔
وہ گھر لوٹا تو اس کی نظر اسی خاموش گھڑی پر پڑی۔
اچانک اسے لگا جیسے گھڑی اس سے سوال کر رہی ہو۔
“تم کب چلو گے؟”
اسی رات حمزہ نے اپنے ریزیومے اپڈیٹ کیے، درخواستیں بھیجیں، اور امّی کے پاس بیٹھ کر چائے پی۔
اگلے دن اس نے گھڑی اتاری، مرمت کروائی، اور واپس لگا دی۔
اب وہ ٹک ٹک کرتی تھی۔
ہر آواز حمزہ کو یاد دلاتی کہ وقت خاموش ضرور ہو سکتا ہے، مگر رکتا نہیں۔
کچھ مہینوں بعد حمزہ کو نوکری مل گئی۔ زندگی کامل نہیں تھی، مگر سچی تھی۔
وہ جان چکا تھا کہ خراب گھڑی دیوار پر ٹانگے رکھنا آسان ہے، مگر رکی ہوئی زندگی چلانا ہمت مانگتا ہے۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- وقت کا شور نہ ہونا اس کے رکنے کی دلیل نہیں
- فیصلے ٹالنا زندگی کو ٹالنے کے برابر ہے
- چھوٹے قدم بڑی تبدیلی لا سکتے ہیں
- آج کی گئی کوشش کل کی حسرت سے بہتر ہے
— اختتام —