واپس آنے والا سایہ
سلمان کو ہمیشہ اندھیرے سے عجیب سا خوف آتا تھا، مگر اصل ڈر اندھیرے کا نہیں تھا— وہ اپنے سائے سے گھبراتا تھا۔
وہ سایہ اس کے ساتھ ہی چلتا، چاہے وہ تیز چلے یا رک جائے۔
یہ سایہ اس غلط فیصلے کی یاد تھا جو اس نے پانچ سال پہلے کیا تھا۔
اس وقت سلمان کو ترقی ملی تھی، اور ساتھ ہی ایک اختیار۔
اس نے اپنے فائدے کے لیے ایک سچ دبنے دیا تھا۔ کسی نے اس پر انگلی نہیں اٹھائی، مگر اس کا ضمیر خاموش نہ رہا۔
مگر جب بھی شام ڈھلتی، سایہ لمبا ہو جاتا۔
ایک دن دفتر میں نیا لڑکا آیا— وہی شخص جس کی فائل کبھی سلمان نے دبائی تھی۔
سلمان کے ہاتھ کانپ گئے۔
لڑکے نے مسکرا کر کہا: “سر، مجھے امید ہے اس بار سب کچھ صاف ہوگا۔”
یہ جملہ سلمان کے لیے آئینہ بن گیا۔
اُس رات وہ دیر تک سو نہ سکا۔
آخرکار اس نے فیصلہ کیا۔
اگلے دن اس نے اپنے افسر کے سامنے ساری حقیقت رکھ دی۔
نقصان ہوا— عہدہ گیا، لوگوں کی نظریں بدلیں۔
مگر جب وہ شام کو گھر لوٹا، سورج غروب ہو رہا تھا۔
سلمان نے زمین پر دیکھا— سایہ اب بھی تھا، مگر ہلکا۔
اس نے پہلی بار سکون کی سانس لی۔
وہ سمجھ گیا تھا کہ سایہ تبھی ہلکا ہوتا ہے جب ہم روشنی کی طرف قدم بڑھاتے ہیں۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- ماضی سے بھاگنا ممکن نہیں، اس کا سامنا کرنا ہی حل ہے
- سچ وقتی نقصان دے سکتا ہے مگر دیرپا سکون دیتا ہے
- ضمیر کی آواز سب سے سچی رہنمائی ہے
- معافی اور اصلاح انسان کو ہلکا کر دیتی ہے
— اختتام —