بند دروازہ
نادیہ کے سامنے وہ دروازہ مہینوں سے بند تھا۔
دفتر کا دروازہ نہیں، قسمت کا۔
ہر درخواست، ہر انٹرویو، ہر امید— اسی دروازے سے ٹکرا کر لوٹ آتی تھی۔
لوگ کہتے تھے: “شاید یہ راستہ تمہارے لیے نہیں۔”
نادیہ مسکرا دیتی، مگر رات کو وہی سوال اس کے دل کو کھٹکھٹاتا۔
وہ ایک چھوٹے شہر سے آئی تھی، جہاں خواب آواز سے پہلے دب جاتے ہیں۔
مگر اس نے خود سے وعدہ کیا تھا کہ وہ خاموشی کو اپنا جواب نہیں بنائے گی۔
ایک دن اسی دفتر میں ایک سیمینار کا اعلان ہوا۔ داخلہ سب کے لیے تھا، مگر بولنے کا موقع چنیدہ لوگوں کو ملنا تھا۔
نادیہ نے نام لکھوا دیا۔
دوست نے کہا: “بار بار ٹھکرائے جانے کے بعد ابھی بھی؟”
نادیہ نے آہستہ کہا: “ہاں، کیونکہ دروازہ ابھی بند ہے، ٹوٹا نہیں۔”
سیمینار کے دن اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے، مگر آواز صاف تھی۔
اس نے اپنی جدوجہد، ناکامی، اور سیکھے گئے سبق سادگی سے بیان کیے۔
ہال خاموش تھا۔
پھر تالیاں بجیں۔
اسی دن ایک سینئر افسر نے اسے بلایا۔
وہی دروازہ جو مہینوں سے بند تھا، آج کھلا۔
نوکری نہیں— اعتماد ملا۔
نادیہ باہر نکلی تو اس نے پیچھے مڑ کر دروازے کو دیکھا۔
اب وہ جان چکی تھی: کچھ دروازے تب کھلتے ہیں جب ہم دستک سے ڈرتے نہیں۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- بار بار انکار حتمی فیصلہ نہیں ہوتا
- ہمت دروازہ کھولنے کی چابی ہے
- خود پر یقین سب سے مضبوط سفارش ہے
- خاموش انتظار اکثر موقع کھو دیتا ہے
— اختتام —