← تمام اردو کہانیاں

ٹوٹا ہوا آئینہ

A cracked mirror reflecting a thoughtful person, soft light, emotional and introspective mood

سارہ کے کمرے کی دیوار پر ایک پرانا آئینہ لٹکا تھا۔ اس کے بیچ میں باریک سی دراڑ تھی، جو چہرے کو دو حصوں میں بانٹ دیتی تھی۔

وہ اس آئینے کو بدل سکتی تھی، مگر اس نے کبھی ایسا نہیں کیا۔

ہر صبح وہ اسی کے سامنے کھڑی ہوتی، اور خود کو دیکھتی— ادھورا، الجھن میں، اور خاموش۔

لوگ اسے مضبوط کہتے تھے۔ نوکری اچھی، فیصلے پختہ، باتیں متوازن۔

مگر آئینہ وہ بات جانتا تھا جو دنیا نہیں جانتی تھی۔

سارہ ہمیشہ دوسروں کی توقعات پر پورا اترنے کی کوشش میں خود کو پیچھے چھوڑ دیتی تھی۔

ایک دن دفتر میں اس سے کہا گیا: “تم بہت قابل ہو، مگر کبھی کبھی اپنی رائے چھپا لیتی ہو۔”

یہ جملہ سارہ کے ساتھ گھر تک آیا۔

اس رات وہ دیر تک آئینے کے سامنے بیٹھی رہی۔

اس نے دراڑ میں اپنی آنکھ دیکھی— واضح، سچی۔

اسے احساس ہوا کہ دراڑ آئینے میں نہیں، اس کے اندر تھی— وہ خوف جو اسے خود بننے سے روکتا تھا۔

اگلے دن میٹنگ میں سارہ نے پہلی بار اپنی بات پوری کہی۔

آواز کانپ رہی تھی، مگر ارادہ مضبوط تھا۔

کمرہ خاموش ہو گیا، پھر کسی نے کہا: “یہی نقطہ ہمیں چاہیے تھا۔”

شام کو سارہ گھر آئی، آئینے کے سامنے رکی۔

چہرہ اب بھی دراڑ میں بٹا تھا، مگر نظر پوری تھی۔

اس نے آئینہ نہیں بدلا۔ اب وہ جانتی تھی— ٹوٹا ہوا آئینہ کبھی کبھی اصل شکل دکھا دیتا ہے۔



معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:

اگر آپ بھی کبھی خود کو ٹوٹے آئینے میں دیکھیں، تو نظریں نہ چرائیں۔ شاید وہی دراڑ آپ کو اپنی اصل طاقت دکھا دے۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →