کاغذ کی کشتی
بارش اس دن خاموشی سے برس رہی تھی۔
گلی کے نکڑ پر پانی جمع تھا، اور اس پانی میں ایک چھوٹی سی کاغذ کی کشتی تیر رہی تھی۔
یہ کشتی علی نے بنائی تھی۔
علی کا گھر اسی گلی میں تھا— چھوٹا، سیدھا، اور ضرورتوں سے بھرا ہوا۔
اس کے ابّو ایک ورکشاپ میں کام کرتے تھے، اور امّی سلائی کرتیں۔
علی کو پڑھنا بہت پسند تھا، مگر کتابیں کم تھیں۔
جب بھی بارش آتی، وہ پرانی کاپیوں کے صفحات سے کشتی بناتا، اور گلی میں چھوڑ دیتا۔
وہ ہر بار ایک ہی دعا کرتا: “یا اللہ، یہ کشتی آگے تک چلی جائے۔”
کبھی کشتی اینٹ سے ٹکرا جاتی، کبھی پانی میں گل جاتی۔
لوگ ہنستے، کہتے: “کاغذ کی کشتی کہاں دور جاتی ہے؟”
علی مسکرا دیتا، مگر کشتی بناتا رہتا۔
وقت گزرا۔
علی بڑا ہوا۔ اس نے پڑھائی جاری رکھی— کبھی لائبریری میں، کبھی دوستوں کی کتابوں سے۔
ناکامیاں آئیں، رکاوٹیں بھی، مگر اس نے چھوڑا نہیں۔
ایک دن اسے اسکالرشپ ملی۔
اسی گلی میں اس دن بھی بارش تھی۔
علی باہر نکلا، پانی میں ایک نئی کاغذی کشتی رکھی— اس بار صاف، مضبوط فولڈ کے ساتھ۔
اس نے آہستہ سے کہا: “دور جانا ضروری نہیں، بس چلتے رہنا ضروری ہے۔”
کشتی آگے بڑھ گئی۔
علی نے گلی کو دیکھا، پانی کو دیکھا، اور خود کو— اس بچے کو جو کبھی خواب چھوڑنے پر تیار نہیں تھا۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- خواب نازک ہو سکتے ہیں، مگر بے معنی نہیں
- مستقل مزاجی سب سے مضبوط سہارا ہے
- مذاق اور ناکامی راستہ روک نہیں سکتیں
- چھوٹی کوششیں بڑی منزل تک لے جا سکتی ہیں
— اختتام —