← تمام اردو کہانیاں

جلتا ہوا چراغ

A small oil lamp glowing in a dark rural room, warm light, emotional and hopeful atmosphere

گاؤں کے کنارے ایک مٹی کا گھر تھا، جس کی کھڑکی سے ہر رات ایک چراغ جلتا دکھائی دیتا تھا۔

وہ چراغ رضیہ کا تھا۔

رضیہ ایک بیوہ عورت تھی، جس کی دنیا اپنے دو بچوں اور اسی چراغ تک سمٹ آئی تھی۔

بجلی اکثر چلی جاتی، اندھیرا گاؤں پر چھا جاتا، مگر رضیہ چراغ ضرور جلاتی۔

لوگ کہتے: “اتنا تیل ضائع مت کرو، کون دیکھتا ہے؟”

رضیہ مسکرا کر کہتی: “میں دیکھتی ہوں۔”

اس کے بچے اسی چراغ کی روشنی میں پڑھتے تھے۔ کتابیں پرانی تھیں، مگر خواب نئے۔

بارش کے دنوں میں تیل کم ہو جاتا، اور چراغ مدھم جلتا۔

ایسے میں رضیہ اپنے حصے کی روٹی بھی کم کر دیتی، مگر چراغ بجھنے نہیں دیتی۔

ایک رات آندھی آئی۔ ہوا اتنی تیز تھی کہ دروازے کانپنے لگے۔

چراغ لڑکھڑایا۔

بچے ڈر گئے۔ “امّی، چراغ بجھ جائے گا!”

ہاتھ سے شیشہ ڈھانپ دیا۔ اس کی انگلیاں جلنے لگیں، مگر چراغ جلتا رہا۔

کچھ سال بعد وہی بچے شہر پڑھنے گئے۔ ایک ڈاکٹر بنا، دوسرا استاد۔

جب وہ لوٹے، گاؤں میں پہلی بار بجلی آئی تھی۔

مگر اس رات بھی رضیہ نے چراغ جلایا۔

اس بار روشنی کم نہیں تھی، آنکھیں نم تھیں۔

چراغ اب بھی وہیں جل رہا تھا— ایک گواہی بن کر کہ قربانی اندھیرے میں بھی روشنی پیدا کر لیتی ہے۔



معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:

اگر آپ کی زندگی میں بھی کوئی چراغ جل رہا ہے— چاہے کمزور ہی کیوں نہ ہو— تو اسے بجھنے مت دیں۔ شاید کسی کی پوری دنیا اسی روشنی پر قائم ہو۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →