نامکمل نقشہ
سلیم کو نقشے جمع کرنے کا شوق تھا۔
پرانے کاغذ، مدھم سیاہی، اور ایسی راہیں جو شاید اب موجود بھی نہ ہوں۔
اس کے کمرے کی الماری میں ایک نقشہ ایسا بھی تھا جو ہمیشہ ادھورا لگتا تھا۔
ایک کونا پھٹا ہوا، کچھ نشان غائب۔
یہ نقشہ اسے دادا نے دیا تھا، اور کہا تھا: “یہ تمہیں راستہ نہیں، حوصلہ سکھائے گا۔”
سلیم اس بات کو سمجھ نہ سکا۔
وہ ایک محفوظ نوکری کرتا تھا، زندگی ترتیب میں تھی، مگر دل میں کچھ کھٹکتا رہتا تھا۔
ہر دن وہی راستہ، وہی کرسی، وہی باتیں۔
ایک شام اس نے ادھورا نقشہ میز پر پھیلایا۔
کمپاس رکھا، اور سوچا: “اگر میں ان لکیروں کے بغیر چل پڑوں تو؟”
یہ سوال ڈراؤنا تھا، مگر سچا۔
چند دن بعد اس نے چھٹی کی درخواست دی، اور ایک مختصر سفر پر نکل پڑا— بغیر مکمل منصوبے کے۔
راستے میں کبھی وہ گم ہوا، کبھی کسی اجنبی نے درست سمت دکھائی۔
کچھ جگہیں نقشے میں تھیں ہی نہیں، مگر خوبصورت تھیں۔
ایک پہاڑی گاؤں میں ایک بوڑھے نے کہا: “راستے ہمیشہ کاغذ پر نہیں ہوتے، کچھ قدموں میں بنتے ہیں۔”
سلیم مسکرایا۔
واپسی پر وہ بدلا ہوا تھا۔
نوکری وہی تھی، مگر نظر نئی۔
اس نے نقشہ واپس الماری میں رکھا، مگر اب وہ ادھورا نہیں لگتا تھا۔
سلیم سمجھ گیا تھا— نقشہ مکمل ہو یا نہ ہو، سفر چلنے سے ہی مکمل ہوتا ہے۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- ہر راستہ پہلے سے واضح نہیں ہوتا
- نامکمل تیاری حرکت کی دشمن نہیں
- ہمت نقشے سے زیادہ رہنمائی کرتی ہے
- خود کو ڈھونڈنے کے لیے کبھی کبھی گم ہونا پڑتا ہے
— اختتام —