← تمام اردو کہانیاں

آخری سیڑھی

A narrow staircase leading upward with light at the top, worn steps, hopeful and motivational mood

کامران کی زندگی سیڑھیوں جیسی تھی— لمبی، تھکا دینے والی، اور خاموش۔

وہ ایک پرانے پلازہ میں چوکیدار تھا، جہاں لفٹ اکثر خراب رہتی۔ لوگ سیڑھیاں چڑھتے ہوئے بڑبڑاتے، مگر کامران ہر روز مسکرا کر اوپر جاتا۔

اس کے لیے یہ صرف سیڑھیاں نہیں تھیں، یہ اس کا روزگار تھا، اور اس کے خوابوں کا راستہ۔

کامران کا خواب تھا کہ وہ اپنے بیٹے کو اچھی تعلیم دلائے۔ خود وہ زیادہ نہیں پڑھ سکا تھا، مگر یہ کمی وہ اپنے بچے میں نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔

رات کو ڈیوٹی کے بعد وہ ایک چھوٹے سے کمرے میں کتابیں کھول کر بیٹھ جاتا۔ اوپن یونیورسٹی کے فارم، پرانے نوٹس، اور ٹوٹی ہوئی عینک۔

کبھی تھکن جیت جاتی، کبھی نیند۔

پہلا امتحان وہ فیل ہو گیا۔

لوگوں نے کہا: “اب اس عمر میں یہ سب کیوں؟”

کامران نے کوئی جواب نہیں دیا، بس دوبارہ فارم بھر دیا۔

دوسرا امتحان آیا، پھر نتیجہ— ناکامی۔

اس دن سیڑھیاں کچھ زیادہ ہی لمبی لگیں۔

وہ آخری سیڑھی پر رک گیا۔ سانس تیز تھی، دل بھاری۔

اسی لمحے اسے بیٹے کی آواز یاد آئی: “ابو، میں بھی آپ جیسا بنوں گا— محنتی۔”

کامران نے سیڑھی کو دیکھا، اور قدم آگے بڑھایا۔

تیسری بار وہ پاس ہو گیا۔

ڈگری مکمل ہونے میں وقت لگا، مگر دن آیا جب اس نے اپنے بیٹے کے ہاتھ میں کتاب دی— اور کہا: “یہ سیڑھی اب تمہاری ہے۔”

کامران آج بھی اسی پلازہ میں کام کرتا ہے، مگر جب وہ سیڑھیاں چڑھتا ہے،

تو ہر قدم اسے یاد دلاتا ہے— آخری سیڑھی اکثر کامیابی کے سب سے قریب ہوتی ہے۔



معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:

اگر آپ بھی کسی سیڑھی پر رُکے ہوئے ہیں، تو ایک قدم اور بڑھائیں۔ شاید وہی آپ کی آخری سیڑھی ہو۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →