خاموش راستے کا مسافر
گاؤں کے کنارے ایک کچی سڑک تھی، جو شہر کی طرف جاتی تھی۔ ہر صبح لوگ اس سڑک پر تیزی سے گزرتے، کوئی موٹر سائیکل پر، کوئی بس میں، اور کوئی بڑے خوابوں کے ساتھ۔ مگر ان سب کے درمیان ایک شخص ایسا بھی تھا جو ہمیشہ آہستہ آہستہ پیدل چلتا تھا۔
اس کا نام سلیم تھا۔
سلیم نہ امیر تھا، نہ زیادہ پڑھا لکھا، اور نہ ہی لوگوں کی نظروں میں کوئی خاص حیثیت رکھتا تھا۔ وہ گاؤں کے اسکول میں چپراسی کی نوکری کرتا تھا۔ صبح اسکول کھولنا، کمروں کی صفائی کرنا، اور شام کو دروازے بند کرنا — یہی اس کی زندگی کا معمول تھا۔
لوگ اکثر اس پر ہنستے تھے۔
"اتنے سال ہو گئے، آج تک وہیں کا وہیں ہے!"
"کچھ کرنے کا شوق ہی نہیں ہے اسے!"
سلیم سنتا سب کچھ تھا، مگر جواب کبھی نہیں دیتا تھا۔ اس کی خاموشی ہی اس کا جواب تھی۔
ہر شام اسکول بند کرنے کے بعد، سلیم ایک کمرے میں جا کر بیٹھ جاتا جہاں پرانی، ٹوٹی پھوٹی کتابیں پڑی ہوتیں۔ وہ انہیں صاف کرتا، جو پڑھنے کے قابل ہوتیں انہیں غور سے پڑھتا۔ اسے پڑھنے کا شوق تھا، مگر حالات نے اسے تعلیم سے دور رکھا تھا۔
رات کو گھر جا کر وہ مٹی کے چراغ کی روشنی میں لکھنے کی مشق کرتا۔ اس کے ہاتھ کانپتے تھے، لفظ ٹوٹتے تھے، مگر حوصلہ کبھی نہیں ٹوٹا۔
سال گزرتے گئے۔
سلیم وہی رہا — خاموش، سادہ، اور صابر۔
ایک دن ضلع سے ایک افسر اسکول کے معائنے کے لیے آیا۔ اس نے بچوں سے سوالات کیے، مگر بچے گھبرا گئے۔ کوئی جواب نہ دے سکا۔ استاد بھی خاموش ہو گئے۔
اسی لمحے سلیم نے ہمت کر کے کہا:
"جناب، اگر اجازت ہو تو میں بچوں کو سمجھا دوں؟"
سب حیران رہ گئے۔ ایک چپراسی؟
افسر نے اجازت دے دی۔
سلیم نے نہایت سادہ انداز میں بات سمجھائی۔ ایسی مثالیں دیں جو بچوں کی زندگی سے جڑی تھیں۔ بچے فوراً سمجھ گئے۔ افسر حیران رہ گیا۔
تحقیقات ہوئیں، سلیم کی محنت سامنے آئی، اس کا علم، اس کی خاموش جدوجہد — سب کچھ۔
چند مہینوں بعد سلیم کو باقاعدہ استاد مقرر کر دیا گیا۔
وہی لوگ جو کبھی اس پر ہنستے تھے، آج اس کے سامنے ادب سے کھڑے تھے۔
مگر سلیم آج بھی ویسا ہی تھا — خاموش، نرم لہجے والا، اور عاجز۔
بس ایک فرق تھا:
اب اس کی خاموشی میں بھی اعتماد بولتا تھا۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ:
- ہر کامیاب انسان شور نہیں مچاتا
- خاموش محنت کبھی ضائع نہیں جاتی
- لوگوں کی باتوں سے نہیں، اپنے مقصد سے وفادار رہنا چاہیے
- حالات تعلیم چھین سکتے ہیں، سیکھنے کی لگن نہیں
— اختتام —