وقت کی قیمت
علی کو ہمیشہ یہی لگتا تھا کہ زندگی بہت لمبی ہے۔
"ابھی بہت وقت پڑا ہے"، یہ جملہ اس کی زبان پر عام تھا۔
وہ کالج کا طالب علم تھا، ذہین بھی، مگر لاپرواہ۔ پڑھائی کو وہ کل پر چھوڑ دیتا، اور آج کو موبائل، دوستوں اور سوشل میڈیا کے حوالے کر دیتا۔
اس کے والد اکثر سمجھاتے:
"بیٹا، وقت سب سے قیمتی چیز ہے، یہ ایک بار نکل جائے تو واپس نہیں آتا۔"
علی مسکرا کر جواب دیتا:
"ابو، پریشان نہ ہوں، سب ہو جائے گا۔"
مگر "سب" کبھی وقت پر نہیں ہوا۔
امتحانات آئے، علی نے ہمیشہ کی طرح آخری رات پڑھنے کا سوچا۔ نتیجہ آیا تو اس کے نمبر کم تھے۔ وہ افسردہ ہوا، مگر پھر خود کو تسلی دے لی۔
وقت گزرتا گیا۔
کالج ختم ہوا، مگر علی کے پاس نہ مہارت تھی، نہ واضح سمت۔ اس کے دوست آگے بڑھ گئے، کوئی نوکری میں، کوئی کاروبار میں۔
علی آج بھی یہی کہتا:
"ابھی موقع مل جائے گا۔"
پھر ایک دن اس کے والد بیمار پڑ گئے۔ گھر کے حالات بدل گئے۔ اب علی پر ذمہ داری آن پڑی۔ وہ نوکری کی تلاش میں نکلا، مگر ہر جگہ تجربہ اور مہارت مانگی جاتی تھی — جو اس نے وقت پر حاصل نہیں کی تھی۔
وہی وقت، جسے وہ ہلکا سمجھتا تھا، اب اس کے سامنے ایک سخت سوال بن کر کھڑا تھا۔
ایک شام وہ پارک میں بینچ پر بیٹھا تھا۔ سامنے ایک بوڑھا شخص گھڑی دیکھ رہا تھا۔ علی نے پوچھا:
"چچا، آپ بار بار گھڑی کیوں دیکھ رہے ہیں؟"
بوڑھے نے مسکرا کر کہا:
"بیٹا، میں وقت نہیں دیکھ رہا، میں وہ لمحے یاد کر رہا ہوں جو میں نے ضائع کر دیے تھے۔"
یہ جملہ علی کے دل میں اتر گیا۔
اسی دن اس نے فیصلہ کیا:
اب نہیں، ابھی۔
اس نے ایک ہنر سیکھنا شروع کیا، دن رات محنت کی۔ موبائل کم، کتابیں زیادہ۔ آرام کم، کوشش زیادہ۔
مہینے لگے، مگر وہ بدلا۔
ایک سال بعد اسے اچھی نوکری ملی۔ اس دن اس نے گھڑی دیکھی اور مسکرایا۔
آج وہ وقت کو نہیں کہتا تھا:
"کل"
بلکہ کہتا تھا:
"ابھی"
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ:
- وقت سب کے پاس برابر ہوتا ہے، مگر استعمال سب کا مختلف
- جو آج کو ضائع کرتا ہے، وہ کل کو پچھتاتا ہے
- حالات بدلنے سے پہلے خود کو بدلنا ضروری ہے
- وقت کے ساتھ دوستی کامیابی کی کنجی ہے
— اختتام —