ادھورا چراغ
رفیق کو ہمیشہ یہی لگتا تھا کہ اس کی زندگی میں کچھ کمی ہے۔
وہ جہاں جاتا، خود کو دوسروں سے پیچھے پاتا۔ کوئی اس سے زیادہ سمجھدار، کوئی زیادہ خوبصورت، اور کوئی زیادہ کامیاب۔
اس کے دل میں ایک عجیب سا خلا تھا۔
وہ ایک چھوٹے سے قصبے میں رہتا تھا، جہاں شام ہوتے ہی بجلی اکثر چلی جاتی۔ لوگ موبائل کی ٹارچ یا موم بتی جلا لیتے، مگر رفیق کے گھر میں ایک پرانا سا مٹی کا چراغ تھا، جو اکثر آدھا ہی جلتا تھا۔ تیل کم، بتی ٹیڑھی، روشنی مدھم۔
رفیق اکثر اس چراغ کو دیکھ کر سوچتا:
"بالکل میری طرح… ادھورا۔"
وہ جو بھی کام شروع کرتا، دل سے نہیں کرتا۔
"میری صلاحیت ہی کیا ہے؟"
"میں کہاں کسی کے برابر آ سکتا ہوں؟"
یہ سوچیں اسے آہستہ آہستہ اندر سے کھا رہی تھیں۔
ایک رات بارش ہو رہی تھی۔ اندھیرا گہرا تھا۔ بجلی نہیں تھی۔ رفیق کا چھوٹا بھائی ڈر کے مارے رو رہا تھا۔ ماں نے کہا:
"بیٹا، چراغ جلا دو۔"
رفیق نے وہی پرانا چراغ جلایا۔ روشنی کم تھی، مگر کمرے کا اندھیرا ٹوٹ گیا۔ بھائی خاموش ہو گیا۔
رفیق نے پہلی بار غور سے چراغ کو دیکھا۔
وہ پورا نہیں تھا، مگر جل رہا تھا۔
کمزور تھا، مگر اندھیرے سے لڑ رہا تھا۔
اسی لمحے اس کے دل میں ایک خیال آیا:
"شاید مکمل ہونا ضروری نہیں… جلنا ضروری ہے۔"
اگلے دن سے رفیق نے خود کو بدلنا شروع کیا۔
زیادہ نہیں — بس اتنا کہ جو کر سکتا تھا، وہ پورا کرنے لگا۔
چھوٹے کام، مگر پوری نیت سے۔
وہ محلے کے بچوں کو پڑھانے لگا۔
لفظ کم تھے، مگر نیت سچی تھی۔
وقت کے ساتھ بچے سمجھنے لگے۔
والدین خوش ہونے لگے۔
اور رفیق… خود پر یقین کرنے لگا۔
ایک دن کسی نے اس سے کہا:
"تم تو بہت اچھا سمجھاتے ہو!"
رفیق مسکرایا۔
یہ پہلی بار تھا کہ اس نے خود کو مکمل محسوس کیا۔
وہ چراغ آج بھی اس کے گھر میں تھا۔
اب بھی آدھا ہی جلتا تھا۔
مگر رفیق جان چکا تھا:
اندھیرا پورا تھا… پھر بھی چراغ کافی تھا۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ:
- مکمل ہونا شرط نہیں، کوشش کرنا ضروری ہے
- خود کو کم سمجھنا سب سے بڑی رکاوٹ ہے
- چھوٹی روشنی بھی بڑے اندھیروں کو توڑ سکتی ہے
- اپنی قدر پہچاننے والا کبھی ادھورا نہیں رہتا
— اختتام —