← تمام اردو کہانیاں

ماں کی دعا کا سایہ

An elderly mother praying near a window at dawn, soft light, emotional and peaceful mood

احمد شہر کے ایک مصروف علاقے میں رہتا تھا۔
اچھی نوکری، اچھی تنخواہ، اور مصروف زندگی — یہی اس کی پہچان بن چکی تھی۔

اس کی ماں گاؤں میں اکیلی رہتی تھی۔ بوڑھی، کمزور، مگر ہر نماز کے بعد ایک ہی دعا:دنیا کے سب سہارے عارضی ہیں، مگر ماں کی دعا کا سایہ ہمیشہ قائم رہتا ہے۔ "یا اللہ، میرے بیٹے کو اپنی امان میں رکھنا۔"

احمد ماں سے بات تو کرتا تھا، مگر وقت کم تھا۔دنیا کے سب سہارے عارضی ہیں، مگر ماں کی دعا کا سایہ ہمیشہ قائم رہتا ہے۔ "امی، ابھی میٹنگ ہے…"دنیا کے سب سہارے عارضی ہیں، مگر ماں کی دعا کا سایہ ہمیشہ قائم رہتا ہے۔ "امی، بعد میں کال کرتا ہوں…"

ماں ہر بار بس یہی کہتی:دنیا کے سب سہارے عارضی ہیں، مگر ماں کی دعا کا سایہ ہمیشہ قائم رہتا ہے۔ "بیٹا، خوش رہو۔"

ایک دن احمد کو بیرونِ شہر ایک اہم پراجیکٹ کے لیے بھیجا گیا۔ رات کا سفر تھا۔ موسم خراب تھا، بارش تیز ہو رہی تھی۔

بس ہائی وے پر تیزی سے جا رہی تھی۔دنیا کے سب سہارے عارضی ہیں، مگر ماں کی دعا کا سایہ ہمیشہ قائم رہتا ہے۔
اچانک ایک زور دار آواز آئی — ٹائر پھٹ گیا۔

بس بے قابو ہو کر سڑک سے نیچے اترنے لگی۔ لوگ چیخنے لگے۔ احمد کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔

اسی لمحے اس کے کانوں میں ایک جانی پہچانی آواز گونجی:دنیا کے سب سہارے عارضی ہیں، مگر ماں کی دعا کا سایہ ہمیشہ قائم رہتا ہے۔
"یا اللہ، میرے بیٹے کو بچا لینا۔"

بس ایک گہرے گڑھے کے کنارے جا کر رک گئی۔دنیا کے سب سہارے عارضی ہیں، مگر ماں کی دعا کا سایہ ہمیشہ قائم رہتا ہے۔
کچھ لوگ زخمی ہوئے، مگر کوئی جان کا نقصان نہیں ہوا۔

احمد کانپتے ہاتھوں کے ساتھ بس سے اترا۔ اس کے آنسو بہہ رہے تھے۔دنیا کے سب سہارے عارضی ہیں، مگر ماں کی دعا کا سایہ ہمیشہ قائم رہتا ہے۔
اسے پہلی بار شدت سے احساس ہوا — وہ آواز اس کے دل میں کیوں گونجی؟

اسی رات اس نے ماں کو فون کیا۔دنیا کے سب سہارے عارضی ہیں، مگر ماں کی دعا کا سایہ ہمیشہ قائم رہتا ہے۔
"امی… آپ جاگ رہی ہیں؟"

دوسری طرف خاموشی، پھر لرزتی ہوئی آواز:دنیا کے سب سہارے عارضی ہیں، مگر ماں کی دعا کا سایہ ہمیشہ قائم رہتا ہے۔
"ہاں بیٹا، میں دعا کر رہی تھی۔"

احمد پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا۔دنیا کے سب سہارے عارضی ہیں، مگر ماں کی دعا کا سایہ ہمیشہ قائم رہتا ہے۔
"امی، آج اگر میں زندہ ہوں تو آپ کی دعا کی وجہ سے ہوں۔"

ماں نے بس اتنا کہا:دنیا کے سب سہارے عارضی ہیں، مگر ماں کی دعا کا سایہ ہمیشہ قائم رہتا ہے۔
"بیٹا، ماں کی دعا کبھی خالی نہیں جاتی۔"

احمد اگلے ہی دن گاؤں پہنچ گیا۔دنیا کے سب سہارے عارضی ہیں، مگر ماں کی دعا کا سایہ ہمیشہ قائم رہتا ہے۔
اس نے ماں کے ہاتھ چومے، اور دل میں ایک عہد کیا:دنیا کے سب سہارے عارضی ہیں، مگر ماں کی دعا کا سایہ ہمیشہ قائم رہتا ہے۔
دنیا کچھ بھی دے دے، مگر ماں کی دعا سے قیمتی کچھ نہیں۔

اس دن کے بعد احمد کی زندگی میں وقت کم نہیں ہوا — ترجیحات بدل گئیں۔



معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ:

دنیا کے سب سہارے عارضی ہیں، مگر ماں کی دعا کا سایہ ہمیشہ قائم رہتا ہے۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →