← تمام اردو کہانیاں

باپ کے کندھوں کا بوجھ

A tired father walking home at sunset with a small bag, village street, emotional and realistic mood

نذیر احمد ہر صبح فجر سے پہلے اٹھ جاتا تھا۔
چہرے پر تھکن کے سائے ہوتے، مگر آنکھوں میں ایک ضدی سی چمک — بچوں کو پڑھانا ہے، انہیں وہ زندگی دینی ہے جو اسے کبھی نہ مل سکی۔

وہ شہر کے ایک گودام میں مزدوری کرتا تھا۔ بوریوں کو اٹھانا، پسینہ بہانا، اور شام کو گنتی کی چند اجرت جیب میں ڈال کر واپس لوٹنا — یہی اس کا دن تھا۔

اس کے بچے سمجھدار تھے، مگر کم عمر۔
بیٹا اکثر کہتا:
"ابو، آپ اتنا کام کیوں کرتے ہیں؟"

نذیر مسکرا کر جواب دیتا:
"بیٹا، یہ وزن میرے ہاتھوں پر نہیں، میرے خوابوں پر ہے۔"

گھر پہنچ کر وہ خاموش ہو جاتا۔
کھانے میں سادگی، کپڑوں میں پرانا پن، مگر بچوں کی کتابیں نئی اور بستے صاف ہوتے۔

ایک دن گودام میں حادثہ ہو گیا۔
نذیر کا پاؤں پھسل گیا، بوری اس کے کندھے پر آ گری۔ درد تیز تھا، مگر اس نے آواز نہ نکالی۔

چند دن بعد ڈاکٹر نے کہا:
"آرام ضروری ہے، ورنہ نقصان بڑھ جائے گا۔"

مگر نذیر کے کانوں میں صرف ایک آواز تھی:
"فیس جمع کرانی ہے۔"

وہ دوبارہ کام پر چلا گیا۔

کچھ ہفتوں بعد اس کا بیٹا اسکول سے دوڑتا ہوا آیا:
"ابو! میں کلاس میں اول آ گیا ہوں!"

نذیر نے پہلی بار اپنا کندھا سیدھا کیا۔ درد وہیں تھا، مگر دل ہلکا ہو گیا۔

وقت گزرا۔
بیٹا بڑا ہوا، پڑھ لکھ کر نوکری پر لگ گیا۔

ایک دن اس نے ابو کو پرانے بستر پر بیٹھے دیکھا، کندھے جھکے ہوئے۔
اچانک اسے وہ جملہ یاد آیا:
"یہ وزن میرے ہاتھوں پر نہیں، میرے خوابوں پر ہے۔"

اس نے ابو کے کندھے تھامے، اور کہا:
"ابو، اب آپ کے خواب میرا بوجھ ہیں۔"

نذیر کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
اس دن اس کے کندھے ہلکے ہو گئے تھے۔



معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ:

جو کندھے ہمارے لیے جھکتے ہیں، ایک دن ہمارا فرض ہے کہ ہم انہیں سہارا دیں۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →