← تمام اردو کہانیاں

آخری خط

An old handwritten letter on a wooden table near a window, soft daylight, emotional and nostalgic mood

فراز کے پاس سب کچھ تھا — اچھی نوکری، آرام دہ گھر، اور ایک مصروف زندگی۔
بس ایک چیز کی کمی تھی: وقت۔

یا شاید… وہ وقت دیتا ہی نہیں تھا۔

اس کی ماں ایک عرصے سے بیمار تھی۔ فراز ہر مہینے پیسے بھجوا دیتا، مگر فون کم ہی کرتا۔
"امی سمجھدار ہیں"، وہ خود کو تسلی دیتا،
"انہیں میری مصروفیت کا اندازہ ہے۔"

ماں ہر کال کے بعد ایک ہی جملہ کہتی:
"بیٹا، بس تمہاری آواز سن لوں، یہی کافی ہے۔"

ایک دن فراز کے گھر ایک خط آیا۔
خط دیکھ کر وہ چونکا — آج کے دور میں خط؟

لفافہ کھولا تو ماں کی تحریر تھی۔ کمزور، مگر صاف۔

خط میں لکھا تھا:

"میرے بیٹے،
اگر یہ خط تم تک پہنچے تو سمجھ لینا کہ میں نے بہت ہمت کر کے لکھا ہے۔
میں نے کبھی تم سے شکایت نہیں کی، نہ آج کر رہی ہوں۔
بس یہ کہنا چاہتی ہوں کہ وقت بہت تیز ہوتا ہے۔
اگر میں نہ رہوں، تو خود کو قصوروار مت ٹھہرانا — میں تم سے ہمیشہ خوش رہی ہوں۔
تمہاری ماں۔"

فراز کے ہاتھ کانپنے لگے۔

اسی لمحے فون آیا۔
"فراز بھائی… امی اب نہیں رہیں۔"

کمرہ خاموش ہو گیا۔
خط فرش پر گر گیا، مگر لفظ دل پر نقش ہو چکے تھے۔

فراز گاؤں پہنچا۔
وہی گھر، وہی کمرہ، مگر وہ آواز نہیں تھی جو کہتی تھی:
"بیٹا آ گیا؟"

ماں کے بستر کے پاس ایک ڈائری پڑی تھی۔
آخری صفحے پر لکھا تھا:
"آج خط بھیج دیا… دل ہلکا ہو گیا۔"

فراز پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا۔
زندگی میں پہلی بار اس کے پاس وقت تھا — مگر جس کے لیے تھا، وہ نہیں تھی۔

اس دن کے بعد فراز نے ایک عادت بنا لی۔
وہ روز کسی اپنے کو فون کرتا۔
کام بعد میں، رشتے پہلے۔

مگر وہ جانتا تھا:
کچھ خط صرف یادیں بننے کے لیے لکھے جاتے ہیں۔



معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ:

جو بات آج کہی جا سکتی ہے، اسے کل پر نہ چھوڑیں — کل اکثر خط بن کر آتا ہے۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →