آئینے کے سامنے
کامران شہر میں ایک ایماندار آدمی کے نام سے جانا جاتا تھا۔
لوگ اس پر بھروسا کرتے، اس کی بات مانتے، اور اس کے فیصلوں کو درست سمجھتے۔
مگر یہ سچ پورا نہیں تھا۔
کامران نے کبھی بڑا جھوٹ نہیں بولا تھا، بس چھوٹے چھوٹے سمجھوتے کیے تھے۔
کبھی فائدے کے لیے سچ کو موڑ دیا،
کبھی نقصان سے بچنے کے لیے خاموشی اختیار کر لی۔
وہ خود کو یہ کہہ کر مطمئن کر لیتا:
"سب ہی تو ایسا کرتے ہیں۔"
ہر رات سونے سے پہلے وہ آئینے کے سامنے کھڑا ہوتا۔
بال سنوارتا، کپڑے درست کرتا، اور خود کو ایک کامیاب انسان دیکھ کر مطمئن ہو جاتا۔
ایک دن اس کے دفتر میں ایک غلط فائل پر اس کے دستخط ہو گئے۔
غلطی چھوٹی تھی، مگر نقصان کسی غریب آدمی کا ہو رہا تھا۔
ساتھی نے آہستہ سے کہا:
"کوئی بات نہیں، خاموش رہیں، کسی کو پتا نہیں چلے گا۔"
کامران نے سر ہلا دیا۔
اسی رات وہ آئینے کے سامنے آیا۔
مگر آج آئینہ مختلف لگ رہا تھا۔
اسے یوں محسوس ہوا جیسے آئینہ سوال کر رہا ہو:
"کیا واقعی تم وہی ہو جو سب کو نظر آتے ہو؟"
کامران نے نظریں چرا لیں۔
اگلے دن وہ غریب آدمی دفتر آیا۔ ہاتھ جوڑے، آواز کانپتی ہوئی:
"صاحب، یہ کاغذ درست کر دیں، میرا حق مارا جا رہا ہے۔"
کامران کے دل میں کچھ ٹوٹ سا گیا۔
شام کو وہ پھر آئینے کے سامنے کھڑا تھا۔
اس بار اس نے خود سے سوال کیا:
"اگر آج میں نے سچ کا ساتھ نہ دیا، تو کل آئینہ کیسے دیکھوں گا؟"
اگلے دن اس نے غلطی مان لی۔
نقصان درست کیا۔
لوگوں نے حیرت سے دیکھا، کچھ نے ناراضی بھی دکھائی۔
مگر جب وہ شام کو آئینے کے سامنے آیا،
تو پہلی بار اس نے خود کو سیدھا دیکھ لیا۔
آئینہ خاموش تھا۔
اور کامران کا دل… مطمئن۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ:
- چھوٹے سمجھوتے بڑے بوجھ بن جاتے ہیں
- دنیا کو دھوکہ دینا آسان، خود کو دھوکہ دینا مشکل ہے
- ضمیر کی آواز دبائی جا سکتی ہے، ختم نہیں
- سچ وقتی نقصان دے سکتا ہے، مگر دائمی سکون دیتا ہے
— اختتام —