← تمام اردو کہانیاں

ٹوٹا ہوا وعدہ

A broken handshake symbolized by two separated hands, soft light, emotional and reflective mood

یاسر کو لوگ قابلِ اعتماد سمجھتے تھے۔
وہ کم بولتا، مگر جب بولتا تو وعدہ کر لیتا — اور وعدہ اس کی پہچان تھا۔

اسی وجہ سے محلے کا ہر شخص اس پر بھروسا کرتا تھا۔

ایک دن اس کے دوست سلمان نے اس سے کہا:
"یاسر، اگر مجھے یہ کام مل گیا تو میری زندگی بدل جائے گی، بس تم ضامن بن جاؤ۔"

یاسر نے بغیر سوچے کہا:
"فکر نہ کرو، میں تمہارے ساتھ ہوں۔"

کاغذات پر دستخط ہو گئے۔
وعدہ ہو گیا۔

کچھ دن بعد یاسر کو خود ایک سنہری موقع ملا۔
ترقی، زیادہ تنخواہ، اور شہر سے باہر تبادلہ — مگر شرط ایک ہی تھی:
اسے فوراً جانا ہوگا۔

اس نے سلمان کو فون کیا۔
"بس کچھ دنوں کی بات ہے، تم سنبھال لو گے۔"

مگر کچھ دن مہینوں میں بدل گئے۔

سلمان اکیلا رہ گیا۔
ضمانت ٹوٹ گئی، کام رُک گیا، اور اس پر الزام آ گیا۔

ایک شام سلمان یاسر کے گھر آیا۔
آنکھوں میں شکوہ نہیں تھا، بس خاموشی تھی۔
"میں نے تم پر یقین کیا تھا۔"

یہ جملہ یاسر کے دل میں تیر کی طرح لگا۔

رات کو یاسر سو نہ سکا۔
اسے اپنا وعدہ یاد آتا رہا — وہ وعدہ جو اس نے آسانی سے کر لیا تھا، اور اتنی ہی آسانی سے توڑ دیا تھا۔

کچھ دن بعد یاسر واپس آیا۔
اس نے اپنی غلطی مان لی، نقصان پورا کیا، اور سلمان سے معافی مانگی۔

سلمان نے معاف تو کر دیا،
مگر وہ پہلے جیسا اعتماد واپس نہ آ سکا۔

یاسر نے اس دن ایک بات سیکھ لی:
وعدہ لفظوں کا کھیل نہیں، یہ کسی کی امید کا نام ہے۔



معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ:

وعدہ وہ قرض ہے جو وقت پر ادا نہ ہو تو انسان کی ساکھ چھین لیتا ہے۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →