← تمام اردو کہانیاں

لالچ کا انجام

A man counting money alone in a dim room, shadows on the wall, serious and dramatic mood

نعمان ایک چھوٹی سی دکان چلاتا تھا۔
آمدنی محدود تھی، مگر زندگی سکون سے گزر رہی تھی۔ گھر چھوٹا تھا، مگر دل مطمئن تھا۔

مسئلہ تب شروع ہوا جب اس نے دوسروں کو تیزی سے امیر بنتے دیکھا۔
کوئی پلاٹ بیچ کر، کوئی شارٹ کٹ لگا کر، اور کوئی جھوٹ بول کر۔

نعمان کے دل میں ایک چنگاری سی جل اٹھی:
"میں کیوں پیچھے رہوں؟"

ایک دن ایک اجنبی اس کی دکان پر آیا۔
آہستہ آواز میں بولا:
"کم محنت، زیادہ پیسہ۔ بس تھوڑا سا رسک۔"

نعمان نے پہلے انکار کیا،
مگر لالچ نے دلیلیں ڈھونڈ لیں:
"صرف ایک بار…"
"سب ہی تو کرتے ہیں…"

اس نے دکان کا پیسہ لگا دیا۔

شروع میں سب ٹھیک رہا۔
رقم دگنی ہونے لگی۔
نعمان نے نئی چیزیں خریدیں، لوگوں کو احساس دلایا کہ وہ بھی کچھ بن گیا ہے۔

مگر لالچ کبھی مطمئن نہیں ہوتا۔

اس نے مزید پیسہ لگایا۔
اس بار دکان بھی گروی رکھ دی۔

ایک دن فون آیا:
"کام بند ہو گیا ہے… پیسہ واپس نہیں آ سکتا۔"

نعمان کے ہاتھ سے فون گر گیا۔
دکان گئی، جمع پونجی گئی، اور سکون بھی۔

گھر میں خاموشی چھا گئی۔
بیوی کی آنکھوں میں سوال تھے،
بچوں کے چہروں پر خوف۔

نعمان کئی راتیں سو نہ سکا۔
اسے یاد آیا — وہ دن جب کم تھا، مگر کافی تھا۔

مہینوں بعد اس نے پھر سے چھوٹی سطح سے کام شروع کیا۔
اس بار آہستہ، ایمانداری سے۔

وہ امیر نہ بن سکا،
مگر پرسکون ضرور ہو گیا۔

اور نعمان نے یہ سیکھ لیا:
جو انسان حد سے آگے دیکھتا ہے،
اکثر ہاتھ میں موجود سب کچھ بھی کھو دیتا ہے۔



معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ:

ضرورت انسان کو زندہ رکھتی ہے، مگر لالچ انسان کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →