دانش اور فیضان بچپن سے دوست تھے۔
محلے کی گلیوں سے لے کر کالج کے ہال تک، ہر لمحہ ایک ساتھ گزرتا۔ لوگ اکثر ان کی دوستی کو مثال کے طور پر پیش کرتے۔
کالج ختم ہونے کے بعد زندگی نے راستے جدا کیے۔
فیضان ایک بڑی کمپنی میں ملازمت کر گیا، دانش نے چھوٹی دکان کھولی۔
دونوں کی مصروفیات بڑھ گئیں، مگر رشتہ برقرار رہا — کم از کم دانش سوچتا تھا کہ برقرار ہے۔
ایک دن فیضان کی کمپنی میں نقصان ہوا، وہ قرض میں پھنس گیا۔
فیضان نے دانش سے مدد مانگی۔
دانش کے پاس اتنی رقم نہیں تھی، مگر اس کے پاس وقت اور محنت تھی۔
اس نے اپنی دکان کی کچھ بچت فیضان کو دے دی، اور وعدہ کیا کہ وہ اس کے قرض میں ہاتھ بٹائے گا۔
کچھ مہینے بعد، فیضان کی ترقی ہونے لگی، اور دانش نے سوچا:
"یہ دوست تو اپنی زندگی کے بہتر دن دیکھ رہا ہے، اب شاید مجھے واپس کچھ ملے۔"
فیضان نے ایک نیا موقع پایا، اور دانش سے وعدہ کر کے پیسے واپس کرنے کا کہا۔
دانش نے دیا نہیں — لیکن اس بار حسد کا احساس بھی دل میں آیا۔
فیضان نے دیکھا کہ دانش وعدہ پورا نہیں کرے گا، مگر اس نے بھی دوستی کے رشتے کو توڑنے کا سوچا۔
پھر اس نے دانش کو صرف ایک بات کہی:
"دوستی کا مطلب ہے مشکل میں ساتھ دینا، نہ کہ فائدہ دیکھنا۔"
دانش کو اس جملے نے جھنجھوڑ دیا۔
اس نے محسوس کیا کہ دوستی صرف خوشیوں کے وقت نہیں، بلکہ مشکل وقت میں ثابت ہونی چاہیے۔
آخری میں دانش نے اپنی غلطی مان لی، قرض واپس کیا، اور دونوں کی دوستی پہلے سے مضبوط ہو گئی۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ:
- سچی دوستی فائدے میں نہیں، قربانی میں ثابت ہوتی ہے
- مشکل وقت دوستوں کی پہچان کراتا ہے
- حسد اور خود غرضی تعلقات کو نقصان پہنچاتے ہیں
- وعدہ نبھانا اور وقت پر ساتھ دینا اصل دوستی ہے
— اختتام —