راستہ جو واپس لے گیا
گاڑی کی کھڑکی سے باہر پہاڑ دھند میں لپٹے تھے۔ ہوا میں پائن کے درختوں کی خوشبو تھی، اور سڑک جیسے کسی کہانی کی لکیر ہو جو ختم ہونے سے انکار کر رہی ہو۔ میں نے ڈرائیور سے کہا، “یہ راستہ کہاں جاتا ہے؟” وہ ہنسا، “جہاں آپ جانا چاہیں۔”
میں شہر سے بھاگا تھا — یادوں سے، شور سے، ان سب باتوں سے جو دل میں شور مچاتی تھیں۔ پہاڑوں میں خاموشی تھی، مگر وہ خاموشی زندہ تھی۔ جیسے فضا خود سانس لے رہی ہو، اور میں اس کے ساتھ ہلکا ہوتا جا رہا ہوں۔
دوسرے دن میں ایک چھوٹے گاؤں پہنچا۔ لوگ اجنبی مگر مہربان، بچے راستے کے کنارے کھیل رہے تھے۔ ایک بوڑھی عورت نے مجھ سے پوچھا، “کہاں جا رہے ہو، بیٹے؟” میں نے کہا، “ابھی طے نہیں۔” وہ مسکرائی، “تو پھر تم صحیح جگہ آئے ہو۔ یہاں سب وہی رہتے ہیں جو خود کو ڈھونڈنے نکلے ہوں۔”
اس رات میں نے پہلی بار سکون محسوس کیا۔ جھونپڑی کے دروازے سے چاند اندر جھانک رہا تھا۔ میں نے نوٹ بک کھولی — وہی خالی صفحے جو میں شہر میں نہیں بھر پایا تھا، یہاں خود بخود لفظوں سے بھرنے لگے۔ جیسے پہاڑ کہانی سنا رہے ہوں، اور میں صرف لکھ رہا ہوں۔
واپسی کے دن میں نے گاؤں کے دروازے پر رُک کر آخری بار پیچھے دیکھا۔ سورج نکل رہا تھا، روشنی سڑک پر پھیلتی جا رہی تھی۔ دل نے کہا — شاید یہی ہے “منزل” جہاں انسان بھولنے نہیں، *سمجھنے* آتا ہے۔
شہر لوٹنے کے بعد سب نے پوچھا، “کیا کچھ ملا اس سفر میں؟” میں نے مسکرا کر کہا، “ہاں — خاموشی ملی، جو بولنا جانتی تھی۔”
مفہوم / عکاسی:
“راستہ جو واپس لے گیا” یہ سکھاتا ہے کہ بعض سفر واپسی کے ہوتے ہیں —
مگر وہ ہمیں وہیں نہیں لے جاتے جہاں سے چلے تھے،
بلکہ وہاں لے جاتے ہیں جہاں ہم واقعی *ہونے* کے لائق تھے۔
منزل وہ نہیں جہاں پہنچا جائے — منزل وہ ہے جہاں دل مطمئن ہو جائے۔
— اختتام —