آخری خط
بارش رک چکی تھی۔ کھڑکی کے باہر گلی بھیگے پتوں سے بھری تھی، اور میں نے موم بتی کے قریب بیٹھ کر وہ پرانا صندوق کھولا جو برسوں سے نہیں چھوا تھا۔ اس میں تصویریں، پرانے کاغذ، اور ایک لفافہ — جس پر اب بھی میرا نام لکھا تھا، مگر خط میں خوشبو نہیں رہی تھی۔
وہ خط تمہارا تھا — وہی آخری، جو تم نے رخصتی کے دن دیا تھا۔ میں نے اسے کبھی کھولا نہیں۔ شاید ڈر تھا کہ اگر پڑھ لیا تو یادوں کی سیاہی دوبارہ پھیل جائے گی۔
مگر آج کچھ بدل گیا تھا۔ باہر چاند کی روشنی نرم تھی، دل عجیب سکون میں تھا۔ میں نے لفافہ کھولا، اور وقت جیسے پلٹ گیا۔
“پیارے عادل، اگر یہ خط تم تک پہنچا ہے تو سمجھنا میں جا چکی ہوں۔ مگر جان لو، جانا ہمیشہ دوری نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی ہم رشتوں سے نہیں، ان کے شور سے نکل جاتے ہیں۔ تمہاری خاموشی ہی تمہارا جواب تھی، اور میں نے وہ پڑھ لیا تھا۔”
میں نے لفظوں کو انگلیوں سے چھوا — جیسے وہ اب بھی سانس لے رہے ہوں۔ موم بتی کی لو تھرتھرا رہی تھی۔ میں نے کھڑکی کھولی، ہوا اندر آئی اور خط کے کنارے ہلنے لگے۔
کچھ دیر بعد صرف راکھ رہ گئی، مگر دل میں عجب روشنی اتر آئی۔ جیسے بچھڑنا بھی کبھی کبھی مکمل ہونا ہوتا ہے۔
اگلے دن میں نے ایک نیا خط لکھا — “عالیہ، تم صحیح کہتی تھیں۔ خاموشی بھی جواب ہوتی ہے۔ میں نے آخرکار سن لیا ہے۔” پھر میں نے وہ خط ہوا کے حوالے کر دیا۔ شاید وہ وہاں جا پہنچے جہاں کہانیاں ختم نہیں ہوتیں۔
مفہوم / عکاسی:
“آخری خط” یہ کہانی ہے ان لفظوں کی جو کبھی بولے نہیں گئے۔
یہ بتاتی ہے کہ بچھڑنا ختم نہیں،
بلکہ کبھی کبھی دل کے سچ کی شروعات ہوتا ہے۔
— اختتام —