لفظ جو رہ گئے
میں نے آج ایک لفظ تلاش کیا — وہ جو برسوں پہلے قلم سے گر گیا تھا۔ شاید “محبت” یا “خواب” جیسا کوئی لفظ، جو کاغذ پر نہیں، دل کے بیچ کہیں رہ گیا۔
کتاب کے اوراق پر گرد جمی تھی۔ وقت نے ہر صفحے کو دھندلا دیا تھا، مگر ایک جملہ اب بھی واضح تھا: “لکھنے والا کبھی مکمل نہیں ہوتا، وہ ہر کہانی میں خود کو تھوڑا تھوڑا چھوڑ جاتا ہے۔”
میں نے سوچا — شاید اسی لیے ہم سب ادھورے ہیں، کیونکہ ہم اپنے الفاظ دوسروں میں بانٹ دیتے ہیں۔ کوئی کسی کے جملے میں سانس بن جاتا ہے، کوئی کسی کی نظم میں درد۔
رات گہری ہوئی تو میں نے چراغ بجھا دیا۔ اندھیرے میں کاغذ چمکا — جیسے اس پر لکھے حرف زندہ ہو گئے ہوں۔ انہوں نے سرگوشی کی: “ہم وہ ہیں جو کہے نہیں گئے۔ تم نے ہمیں چھپایا، مگر ہم اب بھی تم میں ہیں۔”
میں نے لرزتے ہاتھوں سے قلم اٹھایا۔ پہلی بار لگا جیسے لفظ خود لکھوا رہے ہوں۔ میں نے بس سنا — اور وہ کہانی کاغذ پر اتر آئی جو برسوں سے میرے دل میں قید تھی۔
جب آخری سطر لکھی، تو کمرے میں سکوت پھیل گیا۔ باہر چاندنی زمین پر گری تھی، اور ایسا لگا جیسے وقت رک گیا ہو۔ میں نے تب جانا — ادب وہ لمحہ ہے جب لفظ اور خاموشی ایک ہو جاتے ہیں۔
مفہوم / عکاسی:
“لفظ جو رہ گئے” بتاتا ہے کہ ہر انسان کے اندر ایک ادیب چھپا ہے۔
وہ جو بول نہیں سکتا، لکھ سکتا ہے —
اور جو لکھ نہیں سکتا، وہ محسوس کر سکتا ہے۔
ادب، دراصل احساسات کی وہ زبان ہے جو کبھی مٹتی نہیں۔
— اختتام —