محل کی آخری روشنی
شام ڈھل چکی تھی۔ دلی کے پرانے محل میں آخری چراغ جل رہا تھا۔ فضا میں عود کی خوشبو اور ویرانی دونوں گھل چکی تھیں۔ صدیوں پرانا فرش وقت کے بوجھ سے تھک چکا تھا۔ اور محل کی دیواریں جیسے خود اپنی تاریخ سن رہی تھیں۔
بادشاہ عالمگیر ثانی کی تصویر ابھی تک دیوار پر لٹکی تھی، مگر آنکھوں سے روشنی رخصت ہو چکی تھی۔ محل کے نگراں، *میر فصیح الدین*، اب بھی ہر رات چراغ روشن کرتے — گویا تاریخ کے جنازے پر دیا جلانا ان کا فرض ہو۔
ایک رات، جب ہوا میں خزاں کا پہلا جھونکا آیا، انہوں نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا: “وقت نے سب کچھ لے لیا — مگر یہ دیواریں اب بھی وفادار ہیں۔”
اسی لمحے ایک آواز آئی — “وفاداری دیواروں کی نہیں، انسانوں کی ہونی چاہیے تھی۔” میر فصیح چونکے۔ سامنے ایک نوجوان کھڑا تھا — شاید کوئی مورخ، جو تاریخ لکھنے آیا تھا۔
“تم کون ہو؟” “میں وہ ہوں جو آنے والے وقت کے لیے تمہارا قصہ لکھنے آیا ہے۔ بتاؤ، زوال کی سب سے پہلی علامت کیا تھی؟” میر فصیح نے چراغ بجھایا، اور جواب دیا: “جب لفظ تاج سے اونچا ہونے لگے، اور انسان اپنی زمین سے شرمندہ ہو گیا۔”
باہر گرج کی آواز آئی۔ آسمان پر بجلی چمکی — محل کے ایک ستون میں دراڑ پڑ گئی۔ اور فصیح نے آخری بار چراغ جلایا۔ “یہ آخری روشنی ہے،” انہوں نے کہا، “اس کے بعد تاریخ خود اپنی آنکھیں بند کر لے گی۔”
جب مورخ نے پلٹ کر دیکھا، فصیح غائب تھا۔ صرف چراغ جل رہا تھا، اور اس کی لو میں دیواروں پر پرانے الفاظ لرز رہے تھے: “تاریخ زندہ رہتی ہے — مگر انسان نہیں۔”
مفہوم / عکاسی:
“محل کی آخری روشنی” ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زوال صرف سلطنتوں کا نہیں ہوتا —
کرداروں، سچائیوں، اور یادوں کا بھی ہوتا ہے۔
جب ہم اپنے ماضی سے نظریں چراتے ہیں،
تاریخ خاموشی سے چراغ بجھا دیتی ہے۔
— اختتام —