خاموش قربانی
نسرین بی بی کا دن فجر سے پہلے شروع ہو جاتا تھا۔ آنکھ کھلتے ہی پہلا خیال بچوں کا، اور آخری سوچ بھی انہی کے گرد گھومتی۔
شوہر کے انتقال کے بعد گھر کی ذمہ داری اس کے کندھوں پر آن پڑی تھی۔ چھوٹا سا گھر، تین بچے، اور آمدنی کے نام پر سلائی مشین۔
وہ کبھی شکوہ نہیں کرتی تھی۔ نہ تھکن کا، نہ غربت کا، نہ تنہائی کا۔
بچے اسکول جاتے تو وہ سلائی شروع کر دیتی۔ کبھی کپڑوں پر بٹن، کبھی دوپٹے کی کڑھائی، اور کبھی پوری رات جاگ کر آرڈر پورے کرنا۔
اکثر انگلیوں میں درد ہوتا، آنکھیں جلتی تھیں، مگر لبوں پر خاموشی رہتی۔
بچے کبھی کہتے: "امی، آپ بھی کچھ آرام کر لیا کریں۔"
وہ مسکرا کر کہتی: "وقت آ جائے گا۔"
سال گزرتے گئے۔ بچے بڑے ہونے لگے۔ ایک ڈاکٹر بنا، دوسرا انجینئر، تیسرا استاد۔
کسی نے نہ دیکھا کہ نسرین بی بی کے کپڑے پرانے تھے، دواؤں میں کمی تھی، اور نیند ہمیشہ ادھوری۔
ایک دن سب بچے گھر اکٹھے ہوئے۔ ماں کو نئے کپڑے دیے، تحفے رکھے، اور کہا: "امی، یہ سب آپ کی وجہ سے ہے۔"
نسرین بی بی نے آنکھیں بند کیں۔ آنکھوں کے کناروں سے آنسو بہہ نکلے۔ وہ پہلی بار بولی: "بس اتنا ہی کافی ہے۔"
اس رات وہ کھڑکی کے پاس بیٹھی دیر تک آسمان دیکھتی رہی۔ اس کے دل میں سکون تھا۔ خاموش قربانی رنگ لا چکی تھی۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ:
- سب سے بڑی قربانیاں وہ ہوتی ہیں جو خاموشی سے دی جاتی ہیں
- ماں باپ کے خواب اکثر اپنی اولاد میں دفن ہوتے ہیں
- جو شکایت نہیں کرتا، وہ کمزور نہیں ہوتا
- قربانی کا صلہ ہمیشہ الفاظ میں نہیں، سکون میں ملتا ہے
— اختتام —