ان دیکھا سہارا
ساجد کا نام شہر میں کوئی خاص نہیں جانتا تھا۔ نہ اس کے پاس بڑی گاڑی تھی، نہ بڑا عہدہ، اور نہ ہی کسی محفل میں اس کا ذکر ہوتا تھا۔
وہ ایک چھوٹی سی دکان پر کام کرتا تھا۔ تنخواہ معمولی، زندگی سادہ، مگر دل عجیب طرح سے مطمئن تھا۔
ہر صبح وہ ایک ہی راستے سے گزرتا۔ اسی موڑ پر ایک بوڑھا شخص اخبار بیچتا تھا۔ ساجد روز اخبار لیتا، حال پوچھتا، اور خاموشی سے کچھ اضافی پیسے رکھ دیتا۔
بوڑھا اکثر کہتا: "بیٹا، تم ہمیشہ اتنے پیسے کیوں دے جاتے ہو؟"
ساجد مسکرا دیتا: "آج اخبار اچھا تھا۔"
اسی گلی میں ایک بیوہ عورت بھی رہتی تھی۔ کبھی کبھی اس کے بچوں کی فیس رک جاتی۔ کبھی بجلی کا بل۔ اور ہر بار مسئلہ بغیر آواز کے حل ہو جاتا۔
کسی کو معلوم نہ تھا کیسے۔
ایک دن دکان پر ساجد نہیں آیا۔ پھر دوسرا دن، پھر تیسرا۔
گلی میں خاموشی سی چھا گئی۔ بوڑھے اخبار والے نے دکان دار سے پوچھا: "وہ لڑکا کہاں ہے؟"
پتا چلا ساجد خود بیمار ہو گیا تھا۔ اس کے پاس علاج کے پیسے بھی پورے نہیں تھے۔
اگلے دن ساجد کی دہلیز پر ایک لفافہ پڑا تھا۔ اس میں پیسے تھے، اور ایک پرچی: "اب آپ کا سہارا ہم ہیں۔"
ساجد کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ وہ سمجھ گیا تھا: ان دیکھا سہارا کبھی ضائع نہیں جاتا، وہ وقت آنے پر لوٹ کر ضرور آتا ہے۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ:
- نیکی دکھاوے کی محتاج نہیں
- خاموش مدد سب سے مضبوط سہارا بن جاتی ہے
- جو دوسروں کے لیے آسانی بنتا ہے، اس کے لیے راستے خود بن جاتے ہیں
- انسانیت کا سب سے خوبصورت پہلو وہ ہے جو نظر نہیں آتا
— اختتام —