بند دروازہ
حارث کو ہمیشہ یہی محسوس ہوتا تھا کہ زندگی اس کے ساتھ سختی برت رہی ہے۔ جہاں جاتا، وہاں کوئی نہ کوئی دروازہ بند ملتا۔
کالج کے بعد نوکری کے لیے درخواست دی، جواب نہ آیا۔ دوسری جگہ گیا، انٹرویو اچھا ہوا، مگر پھر خاموشی۔
دوست ایک ایک کر کے آگے بڑھتے گئے۔ کوئی بیرونِ ملک، کوئی اچھی کمپنی میں۔ اور حارث وہیں کھڑا رہا۔
وہ اکثر خود سے کہتا: "شاید میں ہی ناکام ہوں۔"
ایک دن اس نے اپنے والد سے بات کی۔ والد نے آہستہ سے کہا: "ہر بند دروازہ انکار نہیں ہوتا، کبھی کبھی یہ سمت بدلنے کا اشارہ ہوتا ہے۔"
یہ بات حارث کے دل میں بیٹھ گئی۔
اس نے پہلی بار سوچا: "میں جو چاہ رہا ہوں، کیا واقعی وہی میرے لیے درست ہے؟"
اس نے اپنی مہارتوں پر نظر ڈالی۔ جو کام وہ شوق سے کرتا تھا، وہی کام وہ ہمیشہ نظرانداز کرتا آیا تھا۔
حارث نے ایک چھوٹا سا قدم اٹھایا۔ آن لائن سیکھنا شروع کیا، چھوٹے منصوبے بنائے، اور بغیر کسی بڑے اعلان کے کام میں لگ گیا۔
مہینے گزرے۔ کامیابی فوراً نہیں آئی، مگر اعتماد آنے لگا۔
ایک دن ایک ای میل آئی۔ یہ نوکری نہیں تھی، بلکہ تعاون کی پیشکش تھی۔
یہ وہ موقع تھا جو اس کے پرانے راستے سے نہیں، نئے راستے سے آیا تھا۔
حارث مسکرایا۔ اسے سمجھ آ گیا تھا: جو دروازے بند ہوئے تھے، وہ غلط کمرے کے تھے۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ:
- ہر ناکامی انکار نہیں ہوتی
- بعض دروازے اس لیے بند ہوتے ہیں تاکہ ہم درست راستہ تلاش کریں
- خود پر یقین نئے مواقع پیدا کرتا ہے
- صبر اور خود احتسابی زندگی کا رخ بدل سکتے ہیں
— اختتام —