← تمام اردو کہانیاں

آخری موقع

A man standing at an empty railway platform at dawn, soft fog, emotional and hopeful atmosphere

کامران کو لگتا تھا کہ اس کی زندگی میں اب کچھ بھی نیا نہیں بچا۔

غلط فیصلے، ادھورے وعدے، اور ٹوٹے ہوئے رشتے — سب اس کے پیچھے تھے۔

وہ ہر بار نیا آغاز کرنے کا سوچتا، مگر پرانا بوجھ اسے آگے بڑھنے نہیں دیتا تھا۔

لوگ کہتے: "اب بہت دیر ہو چکی ہے۔"

اور کامران یہ بات ماننے لگا تھا۔

ایک رات وہ تنہا ریلوے اسٹیشن پر بیٹھا تھا۔ نہ کسی کا انتظار، نہ کہیں جانے کا ارادہ۔ بس خاموشی۔

اسے اپنی ماں کی آواز یاد آئی: "بیٹا، جب دل جاگ جائے تو وقت نہیں دیکھا جاتا۔"

یہ جملہ اس کے دل میں اتر گیا۔

کامران نے پہلی بار اپنی غلطیوں کا الزام حالات پر نہیں ڈالا۔ اس نے مان لیا کہ قصور اس کا بھی تھا۔

اگلی صبح اس نے ایک چھوٹا سا قدم اٹھایا۔ کوئی بڑا اعلان نہیں، کوئی وعدہ نہیں۔

بس ایک معافی۔

پھر ایک ذمہ داری، پھر ایک درست فیصلہ۔

راستہ آسان نہیں تھا۔ لوگ شک میں تھے، خود کامران بھی ڈرتا تھا کہ کہیں پھر نہ گر جائے۔

مگر اس بار وہ رکا نہیں۔

وقت کے ساتھ اعتماد واپس آنے لگا۔ وہ رشتے جو مکمل طور پر نہیں جُڑ سکتے تھے، کم از کم زخم مندمل ہو گئے۔

کامران جان چکا تھا: آخری موقع تب ملتا ہے جب انسان خود کو بدلنے پر تیار ہو جائے۔



معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ:

زندگی کا سب سے قیمتی موقع وہ ہوتا ہے جب ہم خود کو بدلنے کا فیصلہ کر لیتے ہیں۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →