وقت سے پہلے بیداری
حمید اپنی زندگی سے مطمئن سمجھا جاتا تھا۔ اچھی نوکری، معقول آمدن، اور عزت دار پہچان۔
لوگ کہتے تھے: "تم تو کامیاب ہو۔"
مگر حمید جانتا تھا کہ اس کی زندگی صرف چل رہی ہے، جی نہیں رہی۔
وہ ہر دن ایک ہی روٹین میں گزارتا۔ صبح دفتر، شام موبائل، رات نیند۔
گھر والوں سے بات کم، دوستوں سے ملنا رسمی، اور خود سے سوال — بالکل نہیں۔
ایک دن اس کے قریبی دوست اچانک بیمار پڑ گئے۔ زندگی اور موت کے درمیان چند دنوں کی جنگ تھی۔
حمید ہسپتال کے کوریڈور میں بیٹھا خاموشی سے سوچ رہا تھا۔ "اگر کل میری باری ہو تو؟ میں کیا چھوڑ کر جاؤں گا؟"
اس سوال نے اس کی نیند چھین لی۔
اگلے دن وہ وقت سے پہلے جاگ گیا۔ یہ کوئی الارم نہیں تھا، یہ اندر کی آواز تھی۔
اس نے موبائل ایک طرف رکھا، اور پہلی بار خاموشی میں بیٹھا۔
اسے احساس ہوا کہ وہ برسوں سے صرف وقت گزار رہا تھا، وقت جینے کے بجائے۔
حمید نے چھوٹی تبدیلیاں شروع کیں۔ خاندان کے ساتھ کھانا، دوستوں کے لیے وقت، اور خود کے لیے چند لمحے۔
اس نے وہ کام دوبارہ شروع کیے جو کبھی اسے خوشی دیتے تھے، مگر مصروفیت کے نام پر چھوڑ دیے تھے۔
وقت کے ساتھ اس کا چہرہ بدلنے لگا۔ نہ نوکری بدلی، نہ شہر، بس نیت بدلی۔
حمید سمجھ گیا تھا: بیداری اگر وقت سے پہلے ہو جائے تو زندگی کو دوبارہ لکھا جا سکتا ہے۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ:
- صرف کامیاب نظر آنا کافی نہیں ہوتا
- زندگی کا اصل نقصان بیداری میں تاخیر ہے
- چھوٹی تبدیلیاں بڑے بوجھ ہلکے کر دیتی ہیں
- وقت پر سنبھل جانا سب سے بڑی کامیابی ہے
— اختتام —