اپنی باری کا انتظار
احمد ہمیشہ خاموشی سے محنت کرنے والوں میں سے تھا۔ نہ وہ اپنی جدوجہد دکھاتا، نہ کامیابی کا شور مچاتا۔
وہ دیکھتا تھا کہ اس کے ساتھ شروع کرنے والے ایک ایک کر کے آگے بڑھ رہے ہیں۔ کسی کو ترقی مل گئی، کسی کا کاروبار چل نکلا، اور کوئی ملک سے باہر چلا گیا۔
اور احمد؟ وہ وہیں تھا۔
ہر رات وہ خود سے یہی سوال کرتا: "میری باری کب آئے گی؟"
لوگ مشورے دیتے: "بس قسمت نہیں۔" کچھ کہتے: "شاید تم میں ہمت کم ہے۔"
یہ باتیں اس کے دل میں چبھتیں، مگر وہ رکا نہیں۔
وہ جانتا تھا کہ اس کی محنت کم نہیں، بس اس کا وقت نہیں آیا۔
ایک دن اس کے والد نے بغیر نصیحت کے کہا: "بیٹا، جلدی میں پکنے والا پھل اکثر ذائقہ کھو دیتا ہے۔"
یہ جملہ احمد کے دل میں بیٹھ گیا۔
اس نے خود کو دوسروں سے نہیں، کل کے احمد سے موازنہ کرنا شروع کیا۔
اس نے سیکھنا جاری رکھا، غلطیوں کو مانا، اور چھوٹی کامیابیوں پر شکر ادا کیا۔
کچھ سال بعد ایک موقع آیا۔ کوئی غیر معمولی نہیں، بس ایک درست موقع درست وقت پر۔
احمد تیار تھا۔
اس بار وہ پیچھے نہیں ہٹا۔ وہ جانتا تھا کہ یہ اس کی باری ہے۔
جب اس کی محنت رنگ لائی، تو لوگ حیران تھے۔ "اتنی خاموشی سے؟"
احمد مسکرایا۔ وہ جانتا تھا کہ اصل انتظار شکایت کا نہیں، تیاری کا ہوتا ہے۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ:
- ہر انسان کی کامیابی کا وقت مختلف ہوتا ہے
- دوسروں سے موازنہ دل کو کمزور کرتا ہے
- صبر، تیاری کے ساتھ ہو تو طاقت بن جاتا ہے
- خاموش محنت کبھی ضائع نہیں جاتی
— اختتام —