← تمام اردو کہانیاں

خاموش گھڑی

An old silent wall clock hanging in a modest room with soft sunlight, realistic, emotional mood

شہزاد ایک عام سا نوجوان تھا، مگر اس کی سب سے بڑی عادت ٹال مٹول کرنا تھی۔ وہ ہر کام کل پر چھوڑ دیتا۔ اس کے لیے وقت محض ایک گھومتی ہوئی سوئی تھی، جس کی کوئی خاص اہمیت نہیں تھی۔

شہزاد کے کمرے کی دیوار پر ایک پرانی گھڑی لٹکی ہوئی تھی۔ نہ اس میں کوئی جدید فیچر تھا، نہ کوئی چمک دمک۔ بس خاموشی سے چلتی رہتی تھی۔ وہ گھڑی اس کے دادا کی نشانی تھی، جو وفات سے پہلے اسے دے گئے تھے۔

دادا اکثر کہا کرتے تھے: “بیٹا، یہ گھڑی وقت نہیں بتاتی، وقت سمجھاتی ہے۔”

مگر شہزاد ان باتوں کو پرانی نسل کی نصیحت سمجھ کر نظر انداز کر دیتا۔

وہ اکثر امتحان کی تیاری آخری دن پر کرتا، نوکری کے لیے درخواستیں مؤخر کرتا، اور اپنے والدین کے ساتھ وقت گزارنے کے بجائے موبائل میں گم رہتا۔

ایک دن اس کے والد شدید بیمار پڑ گئے۔ ڈاکٹر نے فوری علاج کی ہدایت دی، مگر شہزاد نے حسبِ عادت کہا: “کل دیکھتے ہیں، آج بہت تھکا ہوا ہوں۔”

اگلی صبح وہ جب اٹھا تو کمرہ عجیب سی خاموشی میں ڈوبا ہوا تھا۔ دیوار پر لٹکی گھڑی رک چکی تھی۔ سوئیاں منجمد تھیں۔

اسی لمحے اس کی والدہ کی روتی ہوئی آواز آئی: “شہزاد… تمہارے ابو نہیں رہے۔”

شہزاد کے ہاتھ سے موبائل گر گیا۔ دل جیسے کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا ہو۔ وہ دوڑ کر والد کے کمرے میں گیا، مگر وقت ختم ہو چکا تھا۔

اس کی نظر پھر دیوار پر رکی گھڑی پر پڑی۔ وہ گھڑی اب بھی خاموش تھی، مگر آج اس خاموشی میں چیخ تھی۔

شہزاد کو دادا کی بات یاد آ گئی: “یہ گھڑی وقت نہیں بتاتی، وقت سمجھاتی ہے۔”

اس دن کے بعد اس نے اپنی زندگی بدل دی۔ وہ وقت پر اٹھنے لگا، ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لینے لگا، اور ہر لمحے کی قدر کرنے لگا۔

اس نے گھڑی ٹھیک کروائی، مگر ایک بات بدلی نہیں — وہ گھڑی آج بھی خاموش ہے، مگر شہزاد کے لیے وہ بولتی ہے۔

ہر گزرتی ٹِک کے ساتھ وہ اسے یاد دلاتی ہے: “جو وقت گزر جائے، وہ واپس نہیں آتا۔”



معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ وقت کی خاموشی سب سے بلند آواز ہوتی ہے۔ جو لوگ وقت کی قدر نہیں کرتے، وقت ایک دن انہیں ایسا سبق دیتا ہے جو کبھی نہیں بھولتا۔

زندگی میں بہت سی چیزیں دوبارہ مل سکتی ہیں، مگر گزرا ہوا وقت نہیں۔
آج اگر ہم اپنے کام، اپنے رشتے اور اپنی ذمہ داریاں “کل” پر چھوڑ رہے ہیں، تو ہو سکتا ہے وہ کل کبھی نہ آئے۔

سبق:
وقت کو معمولی نہ سمجھیں، کیونکہ وقت ہی زندگی ہے۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →