← تمام اردو کہانیاں

بند دروازہ

A closed wooden door with soft light leaking from underneath, moody, symbolic, realistic

ارسلان ایک محنتی مگر بے چین انسان تھا۔ وہ ہمیشہ شکوہ کرتا رہتا کہ زندگی نے اس کے لیے مواقع کے دروازے بند کر رکھے ہیں۔ اس کے دوست ترقی کر رہے تھے، مگر وہ وہیں کا وہیں تھا۔

ایک دن اسے ایک بڑی کمپنی میں انٹرویو کے لیے بلایا گیا۔ یہ موقع اس کے لیے خواب جیسا تھا۔ انٹرویو کے دن وہ وقت پر پہنچا، مگر کمپنی کے مرکزی دروازے پر پہنچ کر رک گیا۔

دروازہ بند تھا۔

ارسلان نے گھڑی دیکھی، وقت ابھی باقی تھا۔ اس نے دروازہ کھولنے کی کوشش کی، مگر وہ واقعی بند تھا۔ وہ جھنجھلا گیا۔ “دیکھا! قسمت نے پھر دروازہ بند کر دیا،” اس نے خود سے کہا۔

وہ مایوس ہو کر پیچھے ہٹ گیا، مگر اچانک اس کی نظر دروازے کے ساتھ لگے ایک چھوٹے سے بورڈ پر پڑی: “براہِ کرم دروازہ دھکیلنے کے بجائے کھینچیں۔”

ارسلان کو جھٹکا سا لگا۔ اس نے آہستہ سے دروازہ اپنی طرف کھینچا، اور دروازہ فوراً کھل گیا۔

وہ اندر داخل ہوا، مگر اس کا دل عجیب خیالوں میں الجھ گیا تھا۔

انٹرویو اچھا ہوا، مگر واپسی پر وہ بار بار اسی دروازے کے بارے میں سوچتا رہا۔ اسے محسوس ہوا جیسے زندگی نے آج اس سے بات کی ہو۔

اسے یاد آیا کہ وہ کتنی بار بغیر خود کو بدلے، حالات کو الزام دیتا رہا۔ کتنی بار اس نے کوشش کا طریقہ بدلنے کے بجائے قسمت کو قصوروار ٹھہرایا۔

چند دن بعد اسے نوکری مل گئی۔

اس دن اس نے اپنے کمرے میں بیٹھ کر ایک کاغذ پر لکھا: “ہر بند دروازہ مسئلہ نہیں ہوتا، کبھی مسئلہ ہمارا طریقہ ہوتا ہے۔”

اس کے بعد جب بھی زندگی میں کوئی رکاوٹ آتی، وہ سب سے پہلے خود سے سوال کرتا: “کیا میں صحیح سمت میں زور لگا رہا ہوں؟”

دروازے اب بھی بند ہوتے تھے، مگر ارسلان اب جان چکا تھا کہ ہر بند دروازہ ناکامی نہیں، کچھ دروازے ہمیں سوچ بدلنے کے لیے روکتے ہیں۔



معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ زندگی میں ناکامی ہمیشہ قسمت کی وجہ سے نہیں ہوتی۔ اکثر ہم غلط سمت میں زور لگا رہے ہوتے ہیں۔

اگر کوئی راستہ بند نظر آئے تو فوراً مایوس نہ ہوں۔
رکیں، سوچیں، اور اپنا طریقہ بدل کر دیکھیں۔

سبق:
زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے صرف محنت نہیں،
سمجھداری بھی ضروری ہے۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →