ادھورا خط
علی کو لکھنے کا شوق تھا۔ وہ باتوں کو کہنے کے بجائے کاغذ پر اتارنا زیادہ آسان سمجھتا تھا۔ خاص طور پر وہ باتیں جو دل میں بوجھ بن کر رہ جاتیں۔
اس کی ماں خاموش طبعیت کی خاتون تھیں۔ وہ کبھی شکایت نہ کرتیں، کبھی تقاضا نہ کرتیں۔ بس ہر وقت علی کے لیے دعا گو رہتیں۔
ایک دن علی نے سوچا کہ وہ اپنی ماں کو ایک خط لکھے گا۔ ایسا خط جس میں وہ سب کہے گا جو زبان پر کبھی نہ لا سکا۔ اس نے کاغذ لیا، قلم اٹھایا اور لکھنا شروع کیا:
“امّی! میں آپ کو وہ سب کبھی نہیں کہہ پایا جو کہنا چاہیے تھا…”
وہ لکھتا رہا، یادوں کے دریچے کھلتے گئے۔ بچپن کی بیماریاں، ماں کی جاگتی راتیں، اور اس کی اپنی بے توجہی۔
مگر درمیان میں ہی وہ رک گیا۔ “یہ سب بعد میں مکمل کر لوں گا،” اس نے سوچا۔
خط الماری میں رکھ دیا گیا۔
چند دن بعد ماں کی طبیعت خراب ہوئی۔ علی اسپتال کے چکر لگاتا رہا، مگر وہ خط وہیں ادھورا پڑا رہا۔
ایک رات ڈاکٹر نے کہا: “ہم پوری کوشش کر چکے ہیں۔”
صبح علی کے لیے وہ دن بن کر آیا جس کا اسے کبھی تصور بھی نہ تھا۔
کمرے میں واپس آ کر اس کی نظر الماری پر پڑی۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے وہ خط نکالا۔ الفاظ وہیں رک گئے تھے، جیسے وقت بھی وہیں تھم گیا ہو۔
علی نے خط مکمل کیا، مگر اب پڑھنے والی کوئی نہ تھی۔
اس دن اس نے وہ خط بند نہ کیا، بلکہ اسے اپنی زندگی کا حصہ بنا لیا۔ وہ اب ہر رشتے کو ادھورا نہیں چھوڑتا تھا۔
وہ جان چکا تھا کہ کچھ لفظ وقت مانگتے ہیں، اور اگر وقت پر نہ کہے جائیں، تو ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جاتے ہیں۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جذبات کو مؤخر کرنا سب سے بڑی محرومی بن سکتا ہے۔ جو باتیں دل میں ہیں، انہیں وقت پر کہہ دینا چاہیے۔
رشتے الفاظ کے محتاج ہوتے ہیں۔
خاموشی اکثر محبت نہیں،
بلکہ فاصلے بڑھا دیتی ہے۔
سبق:
اپنے پیاروں سے باتیں ادھوری نہ چھوڑیں،
کیونکہ کل کا کوئی وعدہ نہیں۔
— اختتام —